Kindly define Sabar and Shukar.

حقیقی صبر اور حقیقی شکر کا حصول اللہ کی یاد (تسبیح و ذکر) کے بغیر ناممکن ہے۔ صبر محض دانت پیس کر برداشت کرنے کا نام نہیں، بلکہ دل کے سکون اور رضا کا نام ہے، اور دلوں کا سکون صرف اللہ کے ذکر میں ہے۔ قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ نے صبر کو اپنی “معیت” (ساتھ ہونے) کے ساتھ مشروط کیا ہے۔

​فَاصْبِرْ عَلَىٰ مَا يَقُولُونَ وَسَبِّحْ بِحَمْدِ رَبِّكَ قَبْلَ طُلُوعِ الشَّمْسِ وَقَبْلَ الْغُرُوبِ
پس جو کچھ یہ لوگ کہتے ہیں اس پر صبر کیجیے اور سورج نکلنے سے پہلے اور اس کے غروب ہونے سے پہلے اپنے رب کی حمد کے ساتھ تسبیح بیان کیجیے۔

(سورة ق: 39)

ایک دوسری طرف اللہ حضرت یونس علیہ السلام کے صبر کے بارے میں جو مچھلی کے پیٹ میں انہوں نے کیا، ان کے بارے میں یوں کہتے ہیں:

فَلَوْلَا أَنَّهُ كَانَ مِنَ الْمُسَبِّحِينَ لَلَبِثَ فِي بَطْنِهِ إِلَىٰ يَوْمِ يُبْعَثُونَ
اگر وہ (یونس علیہ السلام) تسبیح کرنے والوں میں سے نہ ہوتے تو وہ قیامت کے دن تک مچھلی کے پیٹ میں رہتے۔

(الصافات: 143–144)

اسی طرح اللہ شکر کو بھی اپنی “معیت” (ساتھ ہونے) کے ساتھ مشروط کیا ہے، اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:

​فَاذْكُرُونِي أَذْكُرْكُمْ وَاشْكُرُوا لِي وَلَا تَكْفُرُونِ
پس تم مجھے یاد کرو، میں تمہیں یاد رکھوں گا، اور میرا شکر ادا کرو اور میری ناشکری نہ کرو۔

(سورة البقرۃ: 152)

اللہ کی یاد (تسبیح و ذکر) ہی وہ واحد راستہ ہے جو انسان کو ناشکری (کفرِ نعمت) سے بچا کر شکر کی راہ پر چلاتا ہے۔

دوسری اور اہم بات صبر اور شکر محض اخلاقی خوبیاں نہیں ہیں بلکہ یہ ایک مکمل روحانی اور جسمانی تھراپی ہیں جو انسان کو اللہ سے جوڑ کر دنیاوی اور ذہنی آفات سے محفوظ رکھتی ہیں، اور ان دونوں کی روح “تسبیح” یعنی اللہ کی ہمہ وقت یاد ہے، اس کی مذہبی اور سائنسی توجیہ درج ذیل ہے۔

​صبر اور شکر انسانی زندگی کے وہ دو اہم ستون ہیں جن پر ایمان کی عمارت کھڑی ہے۔ لغوی اعتبار سے صبر کا مطلب روکنا اور باندھنا ہے، یعنی نفس کو گھبراہٹ سے، زبان کو شکایت سے اور اعضاء کو نامناسب حرکات سے روکنا صبر کہلاتا ہے، جبکہ شکر کا مفہوم نعمت کا اعتراف کرنا اور اسے دینے والے کی رضا میں استعمال کرنا ہے۔ جب ہم ان دونوں کی حقیقت پر غور کرتے ہیں تو یہ بات واضح ہوتی ہے کہ ان دونوں کا سرچشمہ ایک ہی ہے اور وہ ہے “اللہ کا ذکر” یا “تسبیح”۔

ایک تسبیح گزار کی زندگی تسبیح کے گرد گھومتی ہے۔ جب وہ نعمت پاتا ہے تو “الحمدللہ” کہتا ہے (جو کہ اللہ کا ذکر اور مقبول دعا ہے) اور یہ شکر بن جاتا ہے، اور جب تکلیف پاتا ہے تو “انا للہ و انا الیہ راجعون” کہتا ہے (یہ بھی ذکر ہے) اور یہ صبر بن جاتا ہے۔

​احادیثِ مبارکہ میں بھی اس کیفیت کو بہت خوبصورتی سے بیان کیا گیا ہے کہ اس کا ہر حال اللہ کی یاد سے جڑا ہوتا ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے مومن کے معاملے پر تعجب کا اظہار فرمایا:

​عَجَبًا لِأَمْرِ الْمُؤْمِنِ إِنَّ أَمْرَهُ كُلَّهُ خَيْرٌ، وَلَيْسَ ذَاكَ لِأَحَدٍ إِلَّا لِلْمُؤْمِنِ، إِنْ أَصَابَتْهُ سَرَّاءُ شَكَرَ فَكَانَ خَيْرًا لَهُ، وَإِنْ أَصَابَتْهُ ضَرَّاءُ صَبَرَ فَكَانَ خَيْرًا لَهُ
مومن کا معاملہ بھی عجیب ہے، اس کے ہر کام میں خیر ہی خیر ہے اور یہ بات مومن کے سوا کسی کو حاصل نہیں، اگر اسے خوشی پہنچے تو شکر کرتا ہے تو یہ اس کے لیے بہتر ہے اور اگر اسے تکلیف پہنچے تو صبر کرتا ہے تو یہ بھی اس کے لیے بہتر ہے۔

(صحیح مسلم: 2999)

جب تسبیح جاری رہتی ہے تو انسان نفسیاتی طور پر “قبولیت” (Acceptance) کے مقام پر ہوتا ہے۔ وہ جانتا ہے کہ دینے والا اور لینے والا وہی ذات ہے۔ صبر اور شکر درحقیقت ایک ہی سکے کے دو رخ ہیں، کیونکہ اگرچہ باہر کے حالات متضاد ہوتے ہیں—یعنی کبھی نعمت کی فراوانی اور کبھی مصیبت کی سختی—لیکن انسانی دماغ کے اندر ان دونوں کا پروسیسنگ میکانزم (Processing Mechanism) حیرت انگیز طور پر یکساں ہوتا ہے۔ نیورو سائنس اور نفسیات کے مطابق، دونوں حالتوں میں دماغ کا فیصلہ ساز حصہ “پری فرنٹل کارٹیکس” فعال ہوتا ہے جو جذبات کو ریگولیٹ کرنے کا کام کرتا ہے، صبر میں یہ دماغ کو مایوسی اور گھبراہٹ کے ردعمل سے روکتا ہے، جبکہ شکر میں یہ دماغ کو تکبر اور غفلت میں بہہ جانے سے روکتا ہے۔

​اگر ہم اس پورے عمل کا نفسیاتی (Psychological) اور نیورو سائنسی (Neuroscientific) جائزہ لیں تو حیرت انگیز انکشافات سامنے آتے ہیں۔ نفسیات کی رو سے، صبر کرنے والا انسان “جذباتی استحکام” (Emotional Stability) کا مالک ہوتا ہے۔ جب انسان مصیبت میں واویلا کرنے کے بجائے صبر کرتا ہے، تو وہ دراصل اپنے دماغ کو منفی جذبات کے طوفان سے بچا رہا ہوتا ہے۔ جدید سائنس کہتی ہے کہ جب ہم بے صبری کا مظاہرہ کرتے ہیں یا بہت زیادہ شکوہ کرتے ہیں تو ہمارے دماغ کا ایک حصہ “ایمیگڈالا” (Amygdala) متحرک ہو جاتا ہے جو جسم میں “کورٹیسول” (Cortisol) نامی تناؤ کا ہارمون خارج کرتا ہے۔ یہ ہارمون انسان کے مدافعتی نظام کو کمزور کرتا ہے اور ڈپریشن کا باعث بنتا ہے۔ اس کے برعکس، صبر کی مشق دماغ کے “پری فرنٹل کارٹیکس” (Prefrontal Cortex) کو فعال کرتی ہے، جو فیصلے کرنے اور جذبات کو قابو میں رکھنے کا ذمہ دار ہے۔

​دوسری جانب، شکر گزاری (Gratitude) کے اثرات دماغ پر انتہائی طاقتور ہوتے ہیں۔ نیورو سائنس کی تحقیقات سے ثابت ہوا ہے کہ جب انسان شکر ادا کرتا ہے تو دماغ میں “ڈوپامائن” (Dopamine) اور “سیروٹونین” (Serotonin) نامی نیورو ٹرانسمیٹرز خارج ہوتے ہیں۔ یہ کیمیکلز انسان کو خوشی، اطمینان اور سکون کا احساس دلاتے ہیں۔ تحقیق بتاتی ہے کہ جو لوگ روزانہ شکر گزاری کی مشق کرتے ہیں (یعنی اللہ کا ذکر اور نعمتوں کا اعتراف کرتے ہیں)، ان کے دماغ میں نیورل پاتھ ویز (Neural Pathways) تبدیل ہو جاتے ہیں اور وہ قدرتی طور پر منفی چیزوں کے بجائے مثبت چیزوں کو دیکھنے کے عادی ہو جاتے ہیں، جسے “نیوروپلاسٹسٹی” (Neuroplasticity) کہا جاتا ہے۔ یعنی اللہ کا ذکر اور شکر گزاری دماغ کی ساخت کو اس طرح بدل دیتی ہے کہ انسان ڈپریشن اور مایوسی سے محفوظ رہتا ہے۔ جسمانی طور پر شکر اور صبر کرنے والے افراد کا بلڈ پریشر متوازن رہتا ہے، نیند بہتر ہوتی ہے اور دل کے امراض کے امکانات کم ہو جاتے ہیں۔

والله ورسوله أعلم

Leave a Comment