Assalam o alaikum
Yesterday there was a discussion about the relationships we will be having after life…someone said that brother n sister relationship is only for this world n in after life we will only have the relationship of husband n wife….
Well husband n wife is fine but what about other relationships.Will we have no memories of them?
وہاں جو لوگ بھی اس موضوع پر بحث کر رہے تھے، معلوم ہوتا ہے کہ انہوں نے نہ تو قرآن مجید کو سمجھ کر پڑھا ہے اور نہ ہی احادیث کا مطالعہ کیا ہے۔ ایسے غیبی معاملات کی خبر ہمیں اللہ اور اس کے رسول ﷺ کے علاوہ کوئی تیسرا نہیں دے سکتا۔ لہٰذا بہتر یہی ہے کہ ہم اپنے ذاتی اور بے بنیاد خیالات پر مبنی تصورات قائم کرنے کی بجائے قرآن و سنت کا گہرائی سے مطالعہ کریں اور انہی کی روشنی میں غور و فکر کریں۔
جنت نہ صرف انفرادی انعام کی جگہ ہے بلکہ یہ “اجتماعیت اور رشتوں کے ملاپ” کا مقام بھی ہے۔ وہاں انسان کی خوشی تب ہی مکمل ہوگی جب اس کے پیارے (اگر وہ ایمان والے ہیں) اس کے ساتھ ہوں گے۔ اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم میں واضح طور پر وعدہ فرمایا ہے کہ وہ جنتیوں کو ان کے والدین، بیویوں اور اولاد کے ساتھ ملا دے گا تاکہ ان کی آنکھیں ٹھنڈی ہوں۔ اللہ کا ارشادِ گرامی ہے:
﴿جَنَّاتُ عَدْنٍ يَدْخُلُونَهَا وَمَن صَلَحَ مِنْ آبَائِهِمْ وَأَزْوَاجِهِمْ وَذُرِّيَّاتِهِمْ ۖ وَالْمَلَائِكَةُ يَدْخُلُونَ عَلَيْهِم مِّن كُلِّ بَابٍ﴾
”(وہ) ہمیشگی کے باغات ہوں گے جن میں وہ خود بھی داخل ہوں گے اور ان کے باپ دادوں، ان کی بیویوں اور ان کی اولاد میں سے جو نیک ہوں گے وہ بھی ان کے ساتھ جائیں گے، اور فرشتے ان کے پاس ہر دروازے سے (سلام دینے) آئیں گے۔”
(سورۃ الرعد: 23)
اس آیت میں “آبائہم” (باپ دادا) اور “ذریاتہم” (اولاد) کا ذکر ثابت کرتا ہے کہ والدین اور بچوں کا رشتہ برقرار رہے گا، صرف میاں بیوی کا نہیں۔
دوسری بات اگر کسی کا بھائی یا باپ جنت کے نچلے درجے میں ہو اور وہ خود اونچے درجے میں، تو اللہ تعالیٰ اپنے فضل سے نچلے درجے والے کو اوپر والے کے پاس پہنچا دے گا تاکہ ان کی خوشی مکمل ہو، اور اوپر والے کے درجات کم نہیں کیے جائیں گے۔ قرآن میں اللہ کا ارشاد ہے کہ
﴿وَالَّذِينَ آمَنُوا وَاتَّبَعَتْهُمْ ذُرِّيَّتُهُم بِإِيمَانٍ أَلْحَقْنَا بِهِمْ ذُرِّيَّتَهُمْ وَمَا أَلَتْنَاهُم مِّنْ عَمَلِهِم مِّن شَيْءٍ﴾
”اور جو لوگ ایمان لائے اور ان کی اولاد نے بھی ایمان میں ان کی پیروی کی، تو ہم ان کی اولاد کو (جنت میں) ان کے ساتھ ملا دیں گے اور ان کے عمل میں کوئی کمی نہیں کریں گے۔”
(سورۃ الطور: 21)
تیسری بات یہ تصور بھی غلط ہے کہ ہم دنیا کے رشتوں کو بھول جائیں گے۔ قرآن بتاتا ہے کہ جنتی ایک دوسرے کے ساتھ بیٹھیں گے اور دنیا کی یادیں تازہ کریں گے۔
﴿وَأَقْبَلَ بَعْضُهُمْ عَلَىٰ بَعْضٍ يَتَسَاءَلُونَ ۞ قَالُوا إِنَّا كُنَّا قَبْلُ فِي أَهْلِنَا مُشْفِقِينَ﴾
”اور وہ (جنتی) ایک دوسرے کی طرف متوجہ ہو کر آپس میں سوال کریں گے۔ وہ کہیں گے: بیشک ہم اس سے پہلے اپنے گھر والوں (اہل و عیال) میں ڈرا کرتے تھے (اللہ سے ڈرتے تھے)۔”
(سورۃ الطور: 25-26)
یہ آیت ثابت کرتی ہے کہ ان کی یادداشت برقرار ہوگی اور وہ اپنے “اہل” (گھر والوں/بہن بھائیوں) کے ساتھ دنیا کے واقعات پر گفتگو کریں گے۔
چوتھی بات یہ کہ جنت میں رشتوں کی بنیاد “محبت” ہے۔ اگر آپ دنیا میں اپنی بہن یا بھائی سے محبت کرتے ہیں، تو یہ ناممکن ہے کہ اللہ آپ کو جنت میں ان سے جدا کر دے۔حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک شخص نے نبی کریم ﷺ سے قیامت کے بارے میں پوچھا… (آخر میں) آپ ﷺ نے فرمایا:
«أَنْتَ مَعَ مَنْ أَحْبَبْتَ»
“(جنت میں) تم اسی کے ساتھ ہو گے جس سے تم (دنیا میں) محبت کرتے ہو۔”
(صحیح بخاری: 6171)
جنت کا بنیادی اصول یہ ہے کہ وہاں انسان کی ہر خواہش جس میں خیر کا عنصر ہے وہ پوری کی جائے گی۔ اللہ کا قرآن میں ارشاد ہے کہ
﴿وَلَكُمْ فِيهَا مَا تَشْتَهِي أَنفُسُكُمْ وَلَكُمْ فِيهَا مَا تَدَّعُونَ﴾
”اور وہاں تمہارے لیے ہر وہ چیز موجود ہے جو تمہارا جی چاہے، اور وہاں تمہارے لیے وہ سب کچھ ہے جو تم مانگو گے۔”
(سورۃ حم السجدہ / فصلت: 31)
پہلے قرآن اور حدیث اچھی طرح پڑھیں، پھر ان چیزوں کے اوپر بحث مباحثہ اور اپنی سوچ وچار دوسروں کے ساتھ شیئر کریں۔
والسلام