Name: Rizwana Aslam
Age: 34
I am a teacher in the private sector…. Boht kam Salary hy….. My husband is also doing a job but instead of this Living hand to mouth….I do not have my own house to live in…. 3 kids . ….. No permanent job…. I want a miracle that will change my life….. May Allah give me a lot of rizk alot of money , barkat and a successful business in my own house … so that I can bring up my children well and help my family, my parents and the needy……. Miracle
اس تیز رفتار اور پرشور دور کا سب سے بڑا معجزہ یہ ہے کہ انسان زندگی کی تلخیوں کو تسلیم (Accept) کر لے۔ جو نعمت موجود ہے اس پر اللہ کا شکر ادا کرے اور خیالی محلات تعمیر کرنے کی بجائے چھوٹے اور قابلِ حصول اہداف مقرر کرے۔ دوسروں کی زندگیوں کو دیکھ کر خود کو اذیت دینے کی بجائے اپنی زندگی کہ چیلنجز کا سامنا کرے۔
ہمیں غیر حقیقی امیدوں (Unrealistic Expectations) کو چھوڑ کر اپنی استطاعت کے مطابق حقیقی کوشش کرنی چاہیے۔ لمبی اور جھوٹی امیدیں کا انجام اکثر اوقات ندامت میں بدل جاتا ہے اور بعض اوقات خدا کے ہونے کی انکاری پر لے جاتا ہے ۔ یہی وہ چیز ہے جس سے نبی کریم ﷺ نے ہمیں خبردار فرمایا ہے:
إِنَّ أَخْوَفَ مَا أَخَافُ عَلَيْكُمُ اثْنَتَانِ: اتِّبَاعُ الْهَوَى وَطُولُ الْأَمَلِ
“بے شک مجھے تمہارے بارے میں سب سے زیادہ خوف دو چیزوں کا ہے: خواہشات کی پیروی اور لمبی امیدیں (باندھنا)۔”
(حوالہ: مشكوة المصابيح / شعب الایمان)
یاد رکھیں! ہماری ’استطاعت‘ ہمارا ‘ان پٹ’ (Input) ہے اور اللہ کی ’توفیق‘ اس کا ‘آؤٹ پٹ’ (Output)۔ نتیجہ اللہ کے ہاتھ میں ہے۔ جب ہمارا ان پٹ اور اللہ کی رضا کا آؤٹ پٹ ایک جگہ جمع ہوتے ہیں، تب ہی Dots Connect ہوتے ہیں اور انسان اپنے مقصد تک پہنچتا ہے۔
جہاں تک تسبیح کا تعلق ہے، تو ہم کسی دنیاوی معجزے کے حصول کے لیے تسبیح نہیں دیتے۔ سچی بات تو یہ ہے کہ خواہشات کے پیچھے بھاگتے ہوئے اس ہجوم میں اگر کوئی شخص سچا ‘تسبیح گزار’ اور ‘شکر گزار’ بن جائے، تو ہم اسے ہی سب سے بڑا معجزہ سمجھتے ہیں، کیونکہ یہ صفت بہت نایاب ہے۔ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے:
وَقَلِيلٌ مِّنْ عِبَادِيَ الشَّكُورُ
“اور میرے بندوں میں شکر گزار بہت ہی کم ہیں۔”
(سورۃ سبا، آیت 13)
ہم اس لیے تسبیح کو وظیفہ سمجھ کر نہیں دے رہے کہ اس کے پڑھنے سے اللہ فوراً کوئی جادوئی آسانی دے دے۔ تسبیح کا مقصد صرف اور صرف ‘خدا کی یاد’ ہونا چاہیے، نہ کہ آپ کا ‘مقصد’ ہی آپ کا خدا بن جائے اور آپ صرف مطلب نکلوانے کے لیے تسبیح شروع کر دیں۔ یہ تسبیح آپ کو دی جا رہی ہے، اسے اللہ کی یاد سمجھ کر پڑھیں، اور نیچے دعائیں درج ہیں، اس تسبیح کے بعد دعا لازمی پڑھنی ہے اور یاد رکھیے کہ دعا تقدیر کے اندر ایک گنجائش (Exception) کا نام ہے، یہ اللہ کو ڈائریکشن (Direction) دینا ہرگز نہیں ہے۔
اللہ تعالیٰ آپ کے لیے بہت ساری آسانیاں پیدا فرمائے۔
والسلام