کیا یاجوج اور ماجوج کا اخراج چین کی سرحدوں کے قریب ہوگا؟
یاجوج ماجوج — جرمینک قبائل یا چین؟ ایک تاریخی اور مذہبی جائزہ:
یاجوج ماجوج کا موضوع صدیوں سے مذہبی اسکالرز، مورخین اور عام لوگوں کے لیے تجسس کا مرکز رہا ہے۔ موجودہ دور کے بدلتے ہوئے عالمی حالات نے اس بحث کو دوبارہ زندہ کر دیا ہے کہ آیا یاجوج ماجوج کا تعلق مشرق (چین و منگولیا) سے ہے یا مغرب (یورپ اور جرمینک اقوام) سے؟ اس سوال کا جواب تلاش کرنے کے لیے ہمیں تاریخ کے اوراق، مذہبی پیشین گوئیوں اور انسانی تہذیب کے ارتقاء کو ایک ٹائم لائن کی شکل میں دیکھنا ہوگا۔
پہلا باب: یاجوج ماجوج کا نسلی آغاز اور یافث کی اولاد:
حدیث میں آتا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
”وَلَدُ نُوحٍ ثَلاثَةٌ: سَامٌ، وَحَامٌ، وَيَافِثُ… فَلَمَّا كَانَ مِنْ أَمْرِ الْوَلَدِ مَا كَانَ، وَلَدَ سَامٌ الْعَرَبَ وَفَارِسَ وَالرُّومَ، وَوَلَدَ حَامٌ الْقِبْطَ وَالسُّودَانَ وَالْبَرْبَرَ، وَوَلَدَ يَافِثُ التُّرْكَ وَالصَّقَالِبَةَ وَيَأْجُوجَ وَمَأْجُوجَ.”
نوح (علیہ السلام) کے تین بیٹے تھے: سام، حام اور یافث۔۔۔ پس جب ان کی اولاد کا سلسلہ چلا تو:
1. سام کے ہاں عرب، فارس اور رومی پیدا ہوئے۔
2. حام کے ہاں قبطی (مصری)، سوڈانی (سیاہ فام) اور بربر قومیں پیدا ہوئیں۔
3. اور یافث کے ہاں ترک، صقالبہ (سلاو/یورپی اقوام) اور یاجوج ماجوج پیدا ہوئے۔”
تخریج:
المعجم الكبير للطبراني (حدیث: 10834)، مجمع الزوائد (جلد 1، ص 195 – امام ہیثمیؒ نے رواۃ کو ثقہ کہا ہے)، اور علامہ البانیؒ نے سلسلۃ الاحادیث الصحیحۃ میں بھی اس مفہوم کی روایات ذکر کی ہیں۔
اس داستان کا آغاز حضرت نوح علیہ السلام کے دور سے ہوتا ہے۔ طوفانِ نوح کے بعد انسانیت دوبارہ ان کے تین بیٹوں (سام، حام، اور یافث) سے پھیلی۔ اسلامی روایات، بائبل اور تاریخی شواہد اس بات پر متفق ہیں کہ “یافث” کی اولاد نے یورپ اور وسطی ایشیا کے علاقوں کو آباد کیا۔ حدیثِ نبوی ﷺ کے مطابق ترک، صقالبہ (سلاو/یورپی اقوام) اور یاجوج ماجوج یافث ہی کی نسل سے ہیں۔ قدیم مورخین کے مطابق بحیرہ اسود کے شمال میں بسنے والے “سیتھین” (Scythians) قبائل اور یورپ کے “جرمینک ٹرائبز” (Germanic Tribes) اسی نسلی شاخ سے تعلق رکھتے ہیں۔ یوں، نسلی اعتبار سے یاجوج ماجوج کا تعلق اس خطے سے بنتا ہے جو آج روس، مشرقی یورپ اور وسطی ایشیا کہلاتا ہے۔
دوسرا باب: مشرق کا اشتباہ اور چین کی حقیقت:
عوامی سطح پر اکثر یہ سمجھا جاتا ہے کہ چین ہی یاجوج ماجوج ہے، اور اس کی سب سے بڑی وجہ ان کی خوراک ہے۔ لوگ جب چینیوں کو کیڑے مکوڑے، سانپ اور بچھو کھاتے دیکھتے ہیں تو انہیں یہ یاجوج ماجوج کی وحشیانہ خصلت لگتی ہے۔ لیکن تحقیقی اعتبار سے یہ دلیل کمزور ہے۔ چین میں یہ عادت “وحشی پن” کی وجہ سے نہیں بلکہ ہزاروں سال پرانی “مجبوری اور حکمت” کی وجہ سے پڑی۔
چین کی تاریخ میں خوفناک ترین قحط پڑے ہیں، جہاں بقا کی جنگ لڑتے ہوئے لوگوں نے گھاس پھوس سے لے کر کیڑے مکوڑوں تک سب کچھ کھانا شروع کیا۔ یہ عادت رفتہ رفتہ ان کے کلچر اور روایتی ادویات (TCM) کا حصہ بن گئی، جہاں سانپ اور بچھو کو بطور دوا استعمال کیا جاتا تھا۔ ان کے ہاں کسی مذہب (کنفیوشس یا تاؤ ازم) نے کھانے پینے پر “حرام” کی پابندی نہیں لگائی، اس لیے ان کے لیے ہر وہ چیز خوراک بن گئی جو زہریلی نہ ہو۔ مزید برآں، تاریخی طور پر چینی تہذیب (Han Chinese) ایک پرامن اور “اندرون بین” (Isolationist) قوم رہی ہے جس نے کبھی اپنی سرحدوں سے نکل کر دنیا کو فتح کرنے یا عالمی فساد مچانے کی کوشش نہیں کی، جو کہ یاجوج ماجوج کی بنیادی علامت ہے۔ بہت سے علماء نے دیوارِ چین (Great Wall of China) کو دیوارِ ذوالقرنین سمجھنے کی غلطی کی ہے۔ لیکن تاریخی حقیقت یہ ہے کہ دیوارِ چین تو چینیوں نے خود اپنی حفاظت کے لیے بنائی تھی تاکہ شمال کے وحشی حملہ آوروں (منگولوں/ہنوں) کو روکا جا سکے۔
تیسرا باب: تاتاری یلغار اور احادیث کی تطبیق:
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے:
”لاَ تَقُومُ السَّاعَةُ حَتَّى تُقَاتِلُوا التُّرْكَ، صِغَارَ الأَعْيُنِ، حُمْرَ الْوُجُوهِ، ذُلْفَ الأُنُوفِ، كَأَنَّ وُجُوهَهُمُ الْمَجَانُّ الْمُطَرَّقَةُ، وَلاَ تَقُومُ السَّاعَةُ حَتَّى تُقَاتِلُوا قَوْمًا نِعَالُهُمُ الشَّعَرُ”
”(رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا): قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوگی جب تک تم تُرکوں (قومِ ترک) سے جنگ نہ کر لو، جن کی آنکھیں چھوٹی، چہرے سرخ اور ناکیں چپٹی ہوں گی، ان کے چہرے ایسے ہوں گے جیسے تہہ بہ تہہ ڈھالیں (یا ہتھوڑے سے پیٹی ہوئی ڈھال)۔ اور قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوگی جب تک تم ایسی قوم سے جنگ نہ کر لو جو بالوں کے جوتے پہنتے ہوں گے۔”
حوالہ:
صحیح بخاری: حدیث نمبر 2928 (کتاب الجہاد والسیر)
صحیح مسلم: حدیث نمبر 2912
جہاں تک احادیث میں “ڈھال جیسے چہروں، چھوٹی آنکھوں اور چپٹی ناکوں” کا ذکر ہے، تو یہ پیشین گوئی تاریخی طور پر پوری ہو چکی ہے۔ یہ حلیہ چین کے شمال میں بسنے والے وحشی قبائل یعنی “منگولوں اور تاتاریوں” کا تھا۔ 13ویں صدی میں جب چنگیز خان اور ہلاکو خان کی قیادت میں ان قبائل نے عالمِ اسلام پر حملہ کیا اور بغداد کی اینٹ سے اینٹ بجائی، تو اس دور کے علماء نے انہیں ہی وہ “ترک” قرار دیا جن کا ذکر نبی کریم ﷺ نے فرمایا تھا۔ منگولوں نے جس طرح قتل و غارت کی، وہ یاجوج ماجوج کی فطرت کے قریب تر تھی، لیکن یہ طوفان بھی تھم گیا اور وہ لوگ اسلام میں داخل ہو گئے۔
چوتھا اور اہم باب: مغرب کا ابھار اور جرمینک قبائل کا کردار:
کہانی کا رخ اس وقت مغرب کی طرف مڑتا ہے جب ہم “جرمینک قبائل” (Germanic Tribes) کو تاریخ کے اسٹیج پر دیکھتے ہیں۔ عظیم رومی سلطنت (Roman Empire) کو کسی مہذب فوج نے نہیں بلکہ وحشی جرمینک قبائل نے تباہ کیا۔ چوتھی اور پانچویں صدی عیسوی میں گوتھ (Goths)، وینڈلز (Vandals)، فرینکس (Franks) اور اینگلو سیکسن (Anglo-Saxons) نے شمال سے یلغار کی، یہاں تک کہ 410 عیسوی میں ایلرک (Alaric) نامی جرمینک سردار نے روم کو تاراج کر دیا اور بالآخر 476 عیسوی میں رومی سلطنت کا مکمل خاتمہ ہو گیا۔ دلچسپ امر یہ ہے کہ روم کو تباہ کرنے والے یہی جرمینک قبائل بعد میں جدید یورپی اقوام کے اجداد بنے، فرینکس نے فرانس کی بنیاد رکھی، اینگلو سیکسن نے برطانیہ (انگلینڈ) کو تشکیل دیا، ایلیک ٹرائبز نے جرمنی کو جنم دیا اور لمبارڈز نے اٹلی کی تشکیل میں کردار ادا کیا۔ یوں رومی سلطنت کے زوال نے براہِ راست جدید یورپ کی بنیاد رکھنے والے قبائل کو ابھرنے کا موقع فراہم کیا۔
اگر یاجوج ماجوج کی بنیادی نشانی “فساد فی الارض” اور “ہر بلندی سے امڈ آنا” (عالمی غلبہ) ہے، تو جدید یورپی اقوام اس معیار پر چین سے زیادہ پورا اترتی ہیں۔ کچھ محققین کے نزدیک خزر (Khazars) نامی ترک قبائل، جنہوں نے یہودیت قبول کی اور بعد میں یورپ منتقل ہو گئے (اشکنازی یہود یعنی سفید یہود)، اس کی ایک اہم کڑی ہیں۔ اس بحث میں آرتھر کویسٹلر کا کردار بھی اہم ہے۔ وہ بیسویں صدی کا ایک برطانوی-ہنگیرین یہودی صحافی اور مفکر تھا، جس نے 1976 میں اپنی کتاب The Thirteenth Tribe لکھی۔ اس میں اس نے یہ تھیسس پیش کیا کہ مشرقی یورپ کے اشکنازی یہودی دراصل بنی اسرائیل نہیں بلکہ خزر قبائل کی اولاد ہیں، جنہوں نے آٹھویں صدی میں یہودیت قبول کی تھی۔ اس نظریے نے مذہبی اور تاریخی محققین کو یہ سوچنے پر مجبور کیا کہ یورپ میں بسنے والی یہ بڑی قوم یاجوج ماجوج کی نسل ہو سکتی ہے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ کویسٹلر نے یہ کتاب یہودیوں کے حق میں لکھی تھی تاکہ یہ ثابت کرے کہ وہ “سامی” نہیں ہیں اور اس لیے ان پر سامی دشمنی (Anti-Semitism) کا الزام درست نہیں۔
بائبل اور اسلامی تاریخ میں حضرت نوحؑ کے بیٹے یافث کی اولاد میں “ماجوج” کا ذکر ملتا ہے، اور یہ مانا جاتا ہے کہ یافث کی نسل نے یورپ اور وسطی ایشیا کو آباد کیا۔ اس بنا پر بعض محققین یورپ کی قدیم اقوام، بشمول جرمینک قبائل، کو ماجوج کی نسل سے جوڑتے ہیں۔ قدیم یہودی مورخ جوزفس نے لکھا کہ یونانی جنہیں “سیتھین” (Scythians) کہتے ہیں، وہی ماجوج ہیں۔ چونکہ جرمینک قبائل کی جڑیں انہی علاقوں سے نکلتی ہیں، اس لیے یہ بالواسطہ طور پر ان کے ساتھ ربط پیدا کرتا ہے۔
اسی ضمن میں آپ اگر غور کریں تو موجودہ اسرائیل کا وزیراعظم نیتن یاہو ہمیشہ اپنی تقاریر میں اسرائیل کو مغربی تہذیب کا حصہ کہتا نظر آتا ہے نہ کہ مشرقی تہذیب کا حصہ کہتا ہے اور اسرائیلی عوام خود کو بھی ہمیشہ مغربی تہذیب سے جوڑتے ہیں نہ کہ مشرقی تہذیب سے، اسرائیلیوں کو یاجوج ماجوج ثبوت کرنے کے لیے یہ حدیث ہی کافی ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
”وَيَبْعَثُ اللهُ يَأْجُوجَ وَمَأْجُوجَ، وَهُمْ مِنْ كُلِّ حَدَبٍ يَنْسِلُونَ، فَيَمُرُّ أَوَائِلُهُمْ عَلَى بُحَيْرَةِ طَبَرِيَّةَ فَيَشْرَبُونَ مَا فِيهَا، وَيَمُرُّ آخِرُهُمْ فَيَقُولُونَ: لَقَدْ كَانَ بِهَذِهِ مَرَّةً مَاءٌ”
”اور اللہ تعالیٰ یاجوج و ماجوج کو بھیجے گا، اور وہ (جیسا کہ قرآن میں ہے) ہر بلندی سے پھسلتے (تیزی سے اترتے) ہوئے آئیں گے۔ پس ان کا پہلا گروہ (اول حصہ/ریلا) بحیرہ طبریہ (Sea of Galilee) پر سے گزرے گا تو اس کا سارا پانی پی جائے گا، اور جب ان کا آخری گروہ (دوسرا/آخری ریلا) وہاں سے گزرے گا تو کہے گا: ‘کبھی یہاں پانی ہوا کرتا تھا’۔”
(صحيح مسلم: 2937)
یہی بحیرہ طبریہ (Sea of Galilee) اسرائیل کا سب سے بڑا قدرتی میٹھے پانی کا ذخیرہ ہے، جو ماضی میں ملک کی تقریباً ایک چوتھائی آبادی یعنی تقریباً 2 سے 3 ملین افراد کے لیے بنیادی پانی کا ذریعہ تھا۔ لیکن بار بار آنے والی خشک سالی اور جھیل کی سطح میں خطرناک حد تک کمی کے باعث اسرائیل نے اس پر انحصار کم کر دیا اور بڑے پیمانے پر ڈیسالینیشن پلانٹس قائم کیے، جو اب ملک کی 70–80 فیصد آبادی کو پانی فراہم کرتے ہیں۔ اس تبدیلی کے نتیجے میں بحیرہ طبریہ اب زیادہ تر شمالی اسرائیل کے رہائشیوں اور زرعی شعبے کے لیے استعمال ہوتا ہے، جبکہ باقی ملک کا پانی زیادہ تر سمندری پانی کو صاف کر کے حاصل کیا جاتا ہے۔ یوں پہلے لاکھوں افراد براہِ راست اس جھیل سے استفادہ کرتے تھے، لیکن آج اس کا کردار محدود ہو کر صرف مخصوص علاقوں اور زرعی ضروریات تک رہ گیا ہے۔
پانچواں باب: فتح قسطنطنیہ اور نیا عالمی نظام:
دجال اور یاجوج ماجوج اصل میں ان دونوں کا بڑا گہرا فنکشنل تعلق ہے اور میں ان دونوں کو ایک ہی سکے کے دو رخ کہتا ہوں اور اس فنکشنل تعلق کا خاتمہ حدیث کی نظر میں حضرت عیسی علیہ السلام کے ہاتھوں سے ہی ہونا کیونکہ کوئی بھی دنیا کی طاقت ان سے لڑنے کی اہلیت نہیں رکھتی اسی ضمن میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، کہ اللہ حضرت عیسٰیؑ کی طرف وحی نازل کر کے یہ فرمائے گا:
إِنِّي قَدْ أَخْرَجْتُ عِبَادًا لِي، لاَ يَدَانِ لأَحَدٍ بِقِتَالِهِمْ، فَحَرِّزْ عِبَادِي إِلَى الطُّورِ. وَيَبْعَثُ اللَّهُ يَأْجُوجَ وَمَأْجُوجَ، وَهُمْ مِنْ كُلِّ حَدَبٍ يَنْسِلُونَ، فَيَمُرُّ أَوَّلُهُمْ عَلَى بُحَيْرَةِ الطَّبَرِيَّةِ فَيَشْرَبُونَ مَا فِيهَا، وَيَمُرُّ آخِرُهُمْ
“میں نے اپنے ایسے بندے (یاجوج ماجوج) نکال دیے ہیں جن سے لڑنے کی طاقت کسی میں نہیں، لہٰذا آپ میرے بندوں کو لے کر کوہِ طور پر پناہ لیں۔” پھر اللہ یاجوج ماجوج کو بھیجے گا، وہ ہر بلندی سے دوڑتے ہوئے آئیں گے۔ ان میں سے پہلے لوگ بحیرہ طبریہ پر گزریں گے اور اس کا سارا پانی پی جائیں گے، پھر جب آخری لوگ وہاں سے گزریں گے تو کہیں گے: یہاں کبھی پانی ہوا کرتا تھا۔
(صحیح مسلم، کتاب الفتن، حدیث نمبر 2937)
تاریخ کا سب سے اہم موڑ 1453ء میں آیا جب مسلمانوں نے قسطنطنیہ فتح کیا۔ احادیث میں بھی اس فتح کا ذکر ملتا ہے۔ اس فتح نے یورپ کا ایشیا سے زمینی رابطہ کاٹ دیا۔ اسی “بندش” نے یورپی اقوام (یاجوج ماجوج کی ممکنہ جدید شکل) کو سمندروں میں اترنے پر مجبور کیا۔ یہی وہ وقت تھا جب ” استعماریت” (Colonialism) کا دور شروع ہوا۔ یہ اقوام بحری جہازوں کے ذریعے دنیا کے ہر کونے (ہر بلندی) سے اتریں اور پوری دنیا کو اپنی کالونی بنا لیا۔ انہوں نے وسائل کو اس طرح نچوڑا جیسے “پانی پی جانا”۔ دو عالمی جنگیں، ایٹم بم کا استعمال، اور سودی معاشی نظام کے ذریعے پوری انسانیت کو غلام بنانا—یہ سب انہی جرمینک اور یورپی اقوام کا کارنامہ ہے۔
دجال اور یاجوج ماجوج کے اس سارے قصے کو ایک نظام یا عالمی استعماری قوت کے طور پر دیکھا جائے تو جرمینک اور یورپی اقوام سب سے مضبوط امیدوار ہیں۔ انہوں نے رومیوں کو شکست دی، دنیا پر قبضہ کیا اور ایسا عالمی نظام قائم کیا جس نے ہر گھر میں اپنا اثر پہنچایا۔ اس لیے مضبوط ترین رائے یہ بنتی ہے کہ قدیم وحشی قبائل (منگول/ہن) اور جدید دور کی استعماری قوتیں (یورپی/جرمینک اقوام) مل کر دجال اور یاجوج ماجوج کی مجموعی تصویر مکمل کرتی ہیں۔ کیونکہ ایک دوسری حدیث میں بھی آیا ہے کہ فتح قسطنطنیہ کے بعد دجال کا خروج ہوگا۔ اس اعتبار سے دیکھا جائے تو یہ حدیث پوری ہو چکی ہے، کیونکہ قسطنطنیہ مسلمانوں نے فتح کر لیا اور اس کے چند ہی سال بعد یورپی اقوام کا خروج پوری دنیا میں ہوا۔ انہوں نے وہاں کی مقامی نسلوں کو ختم کیا اور ان کے خزانوں اور وسائل (Resources) پر قبضہ کر لیا۔
واللہ اعلم بالحقیقۃ الاشیاء
اشیاء کی حقیقت کا علم صرف اور صرف اللہ کو ہے۔