کیا ہم مولانا امین احسن اصلاحی کو قرآن کی تفسیر کے لیے فالو کر سکتے ہیں؟ جبکہ وہ جاوید احمد غامدی کے استاد رہے ہیں؟
کسی شخص کے نظریات کا مطالعہ کرنا اور بات ہے اور اس کی پیروی کرنا اور بات ہے۔ ہر شخص کو پڑھنا چاہیے، لیکن پیروی اسی کی کرنی چاہیے جو اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے احکامات کے مطابق ہو۔ حضرت علی بن ابی طالب کرم اللہ وجہہ الکریم کا ارشاد گرامی ہے:
«إِنَّ الْحَقَّ لَا يُعْرَفُ بِالرِّجَالِ، اعْرِفِ الْحَقَّ تَعْرِفْ أَهْلَهُ»
’حق لوگوں سے نہیں پہچانا جاتا، بلکہ حق کو پہچان لو، پھر تم اس کے اہل کو خود ہی پہچان لو گے۔‘
کتاب: أخرجه ابن الجوزي في تلبيس إبليس (تحقيق: دار الكتب العلمية، ص 71)
جاوید غامدی صاحب نے انکارِ حدیث اور آزاد خیالی میں جو شدت اختیار کی، مولانا اصلاحی اس حد تک نہیں گئے۔ مولانا اصلاحی حدیث کو رد نہیں کرتے، لیکن وہ حدیث کو پرکھنے کے لیے قرآن کے اپنے فہم کو کسوٹی بناتے ہیں۔ اس اصول کی وجہ سے انہوں نے بعض صحیح احادیث کی ایسی تاویل کی جو جمہور محدثین کے خلاف ہے۔
میرا آپ کو مشورہ ہے کہ سب سے پہلے آپ قرآن اور حدیث کا خود مطالعہ کریں۔ غیر جانبدار ہو کر ہر مکتبہ فکر کو پڑھیں۔ یہ ایک طویل سفر تو ہے، لیکن اس میں یہ بات واضح ہو جائے گی کہ کون حق پر ہے، کس کی رائے بہتر ہے اور کس کی نہیں۔ تب حق آپ کو باآسانی مل جائے گا۔
امام عبدالرحمن ابن الجوزیؒ (المتوفی 597 ھ) نے ”باب تلبیس إبلیس على أهل الأهواء والبدع“ میں لکھا ہے:
وَاعْلَمْ أَنَّ عُمُومَ أَصْحَابِ الْمَذَاهِبِ يُعَظِّمُ فِي قُلُوبِهِمُ الشَّخْصُ، فَيَتَّبِعُونَ قَوْلَهُ مِنْ غَيْرِ تَدَبُّرٍ بِمَا قَالَ، وَهَذَا عَيْنُ الضَّلَالِ، لِأَنَّ النَّظَرَ يَنْبَغِي أَنْ يَكُونَ إِلَى الْقَوْلِ لَا إِلَى الْقَائِلِ.
”یہ بات اچھی طرح سمجھ لو کہ مختلف فقہی مذاہب کے بہت سے پیروکار اپنے دلوں میں کسی خاص عالم یا شخصیت کی ایسی بڑائی بٹھا لیتے ہیں کہ پھر اس کی ہر بات کو بغیر سوچے سمجھے ماننے لگتے ہیں۔ یہ رویہ سراسر گمراہی ہے، کیونکہ اصل معیار یہ نہیں کہ بات کس نے کہی ہے، بلکہ یہ ہے کہ بات خود کتنی درست ہے۔ لہٰذا ضروری ہے کہ آدمی پہلے قول کو پرکھے، اس کی دلیل دیکھے، اور یہ دیکھے کہ وہ حق کے مطابق ہے یا نہیں — نہ یہ کہ صرف قائل کی شخصیت دیکھ کر اسے قبول کر لے۔“
تخریج: أخرجه ابنُ الجوزي في تَلْبِيسِ إبليس (تحقيق دار الكتب العلمية، ص 101) في باب تَلْبِيسِهِ على أهلِ الأهواءِ والبدع.
پروفیسر صاحب کا بڑا خوبصورت قول ہے:
”علم کوفت میں ہے۔“
جو شخص علم حاصل کرنے میں کوفت نہیں اٹھاتا، وہ کبھی بھی علم حاصل نہیں کر سکتا۔ علم سارے کا سارا تحقیق پر مبنی ہونا چاہیے، اگر تحقیق پوری ہو جائے تو پھر تقلید کرنے میں کوئی حرج نہیں۔ اگر آغاز ہی تقلید سے کیا جائے تو تحقیق کبھی اپنے انجام کو نہیں پہنچتی۔ جیسے کہ اوپر حضرت علی بن ابی طالب کرم اللہ وجہہ الکریم نے فرمایا:
«إِنَّ الْحَقَّ لَا يُعْرَفُ بِالرِّجَالِ، اعْرِفِ الْحَقَّ تَعْرِفْ أَهْلَهُ»
’حق لوگوں سے نہیں پہچانا جاتا، بلکہ حق کو پہچان لو، پھر تم اس کے اہل کو خود ہی پہچان لو گے۔‘
والسلام