کیا نکاح تقدیر میں پہلے سے مقرر ہوتا ہے؟

سوال: کیا نکاح تقدیر میں پہلے سے مقرر ہوتا ہے؟کہ کس سے ہونا ہے۔ اور اس میں انسان کا اختیار نہیں ہوتا؟
بابا عرفان الحق کی ایک ویڈیو نظر سے گزری جس میں وہ کہہ رہے کہ شادی کس سے ہونی یہ اللہ نے لکھ دیا تھا اور ثبوت یہ بتا رہے کہ جب ارواح پیدا کیں تو لکھ دیا کہ اس کے ماں باپ کانام کیا ہو گا سو اس میں انسان کا کچھ اختیار نہیں ہوتا ؟

سوال: میرے husband کافی بار یہ جتاتے ہیں کہ انہوں نے مجھے جائنٹ فیملی میں نہیں رکھا ہوا ( بھائیوں اور بھابیوں کے ساتھ، ساس سسر اب حیات نہیں،).
مجھے یہ پوچھنا ہے کہ کیا یہ واقعی بہت بڑا احسان ہے جو انہوں نے مجھ پر کیا ہے کیونکہ مجھے یہ لگتا ہے کہ یہ آسانی اللہ تعالیٰ نے میرے لئے لکھی ہو گی۔اس میں بار باریہ احسان جتانا نہیں بنتا۔؟

یہ عرفان بابا نے نہیں کہا، نہ ہی کسی اور بابے نے کہا ہے، بلکہ یہ میرے رسولﷺ کا ارشادِ گرامی ہے:

“إن أحدكم يجمع خلقه في بطن أمه أربعين يوما… ثم يبعث إليه الملك فيكتب رزقه وأجله وعمله وشقي أو سعيد
انسان کی تقدیر (رزق، عمر، عمل، اور ان کا نیک بخت ہونا یا بدبخت ہونا یہ سب کچھ ماں کے پیٹ میں ہی لکھ دی جاتی ہے۔

(صحیح بخاری، صحیح مسلم)

دوسری طرف، رسول اللہ نے صحیح مسلم کی حدیث میں فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے کائنات کی پیدائش سے پچاس ہزار سال پہلے تمام تقدیریں لکھ دی تھیں۔

اگلی اور اہم بات کہ شوہر کا بیوی کو سہولت دینا اس کی ذمہ داری ہے، احسان نہیں۔ ازدواجی زندگی میں احسان جتانا نہ شوہر کے شایانِ شان ہے نہ بیوی کے، احسان جتانا یہ کم علمی، کم ظرفی اور کم عقلی کی دلیل ہے۔ کیونکہ اللہ کا قرآن میں ارشاد ہے:

لَا تُبْطِلُوا صَدَقَاتِكُم بِالْمَنِّ وَالْأَذَىٰ
اپنے نیک اعمال کو احسان جتانے اور اذیت دینے سے ضائع نہ کرو۔

(البقرۃ: 264)

ازدواجی رشتہ احسان جتانے کا نہیں، بلکہ محبت اور سکون بانٹنے کا ہے، ایک دوسرے کو آسانی فراہم کرنے کا نام ہے۔ قرآن میں شوہر اور بیوی کے تعلق کو “لباس” کہا گیا ہے:

هُنَّ لِبَاسٌ لَكُمْ وَأَنْتُمْ لِبَاسٌ لَهُنَّ
وہ تمہاری بیویاں تمہارا لباس ہیں اور تم مرد ان کا لباس ہو۔

(البقرۃ: 187)

لباس کا مقصد صرف جسم ڈھانپنا نہیں بلکہ عیوب چھپانا، سکون دینا اور تحفظ فراہم کرنا ہے۔ ازدواجی رشتے میں بھی شوہر اور بیوی ایک دوسرے کے لیے ایسے ہی لباس ہیں، نہ ایک دوسرے پر احسان جتانے کے لیے، بلکہ ایک دوسرے کو بہتر حالت میں دیکھ کر دعا دینے کے لیے۔ لباس حسن ہے، لباس سکون ہے، لباس تحفظ ہے۔ جس طرح قمیض اور شلوار ایک دوسرے کو مکمل کرتے ہیں، اسی طرح میاں اور بیوی بھی ایک دوسرے کو مکمل کرتے ہیں۔ قرآن نے اس رشتے کو لباس کے استعارے سے بیان کر کے اس کی گہرائی اور خوبصورتی کو نہایت دلنشین انداز میں واضح کیا ہے۔

تیسری اور اہم بات یہ ہے کہ جس طرح احسان جتانا مناسب نہیں اور کم فہمی کو ظاہر کرتا ہے، اسی طرح کسی کے احسان کو نظر انداز کرنا بھی درست رویہ نہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد گرامی ہے:

لَا يَشْكُرُ اللَّهَ مَنْ لَا يَشْكُرُ النَّاسَ
“جو لوگوں کا شکر ادا نہیں کرتا وہ اللہ کا بھی شکر ادا نہیں کرتا۔”

(سنن أبي داود، كتاب الأدب، حدیث: 4811؛ سنن الترمذي، البر والصلة، حدیث: 1954)

جس طرح احسان جتلانا بھی غلط ہے اسی طرح احسان فراموشی بھی ایک غلط رویہ ہے، اگر دونوں طرف یہ رویے موجود ہوں تو یہ رشتہ کمزوری اور غلط فہمی کا شکار ہو جاتا ہے۔ اللہ تعالی آپ دونوں میاں بیوی میں مودت اور الفت قائم رکھے اور آپ دونوں کو خیر پر اکٹھا رکھے۔

والسلام

Leave a Comment