Blog

کیا رسول اللہ ﷺ قبر میں تشریف لاتے ہیں؟

پروفیسر احمد رفیق اختر

یار سوال تو آپ کا دلچسپ ہے میں بھی تو سوچتا رہتا ہوں کہ Photosynthetic process ہوگا یار دروازہٓ قبر کو کشادہ کر دیا جائے گا۔ زمان و مکان کے حاصل ختم ہو جائیں گے Face to face. زیادہ امکان یہ ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم گرامی مرتبت کو In person دکھایا جائے گا۔ خواتین و حضرات اس کی ایک وجہ ہے کہ بعض اوقات ہمارے اندازے غلط نکلتے ہیں۔ اگر ایک شخص مجھے یہ کہے کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے درخواست کروں کہ آپ اللہ کے حضور اس کی مغفرت کی دعا کریں تو قبول نہیں ہوگی اور اگر یہی دعا روضہ رسول پہ جا کر کریں تو قبول ہوگی۔ میرے نزدیک یہ ایک Funny سی بات ہے۔ اس لئے میں آپ کو ضرور ایک بات بتانا چاہتا ہوں کہ جب ہم عقلی طور پر غور کرتے ہیں تو بعض باتیں بڑی ناقص نکلتی ہیں۔ میرے پاس ایک خاتون آئیں اور انہوں نے کہا کہ روضہٓ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پہ جا کے دعا مانگنا جائز ہے مگر یہاں مانگنا جائز نہیں۔ تو میں نے اس سے کہا کہ یہاں کیوں جائز نہیں۔ کوئی reason تو ہوگی۔ میں نے اس سے کہا کہ لگتا یہ ہے کہ جیسے مجھے فاصلہ لگ رہا ہے گوجرخان سے مدینہ تک کا۔ تمہیں بھی لگ رہا ہوگا اور ہمارے ہاں جو چیز حائل ہے۔ جہاں میرے اور میرے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے درمیان جو چیز حائل ہے وہ کچھ سڑکیں، کچھ دیواریں، اور دو چار نہریں۔ اگر روح کی Definition میں بھی یہ فاصلہ آتے ہیں اور زمان و مکان اس طرح ہوتے ہیں جیسے ہماری زندگی میں ہوتے ہیں تو پھر تو تمہاری بات کا قابلِ تسلیم ہے اور اگر روح کا مطلب یہی ہے کہ مرنے کے بعد ہماری روح زمان و مکان کی گرفت سے نکل جائے اور ایسے عالم میں چلی جائے جہاں اس قسم کے Barriers جو ہیں ناقص بن جائیں اور یہی عالمِ برزخ اور عالمِ ارواح میں سنا۔ اسی طرح جب مطیع جنات اپنے وجود سے خارج ہوتے ہیں تو ان کی Travelling اور رفتار بہت Fast اور ان کے لئے فاصلے بے معنی ہو جاتے ہیں۔ در حقیقت مرنے کے بعد یہ فاصلے کسی روح کی راہ میں حائل نہیں ہوتے۔ کوئی دیوار ان کے راستے میں حائل نہیں ہوتی۔ اس لیے میرا نہیں خیال کہ قبروں میں کوئی زمینی فاصلہ، کوئی گرد، کوئی اینٹ، کوئی پتھر، کوئی روڑا اور کوئی دریا اس Vision میں حائل ہوتا ہو۔ جب خاص طور پر یہ حدیث موجود ہو کہ سکرات کے وقت ہی سے قرآن کہتا ہے، کہ آج اس کی آنکھ کیا تیز ہے کہ جو باتیں اس کو بتائی جاتی تھی جس پر اس کو اعتبار نہیں تھا آج خود اپنی آنکھوں سے ان چیزوں کو دیکھتا ہے تو اگر سکرات کے وقت ہی سے آنکھیں اتنی تیز ہو جاتی ہیں تو پھر اس کے اپنے وجود کے حوالے سے بھی اس کی آنکھوں کے سارے حجاب اٹھ جاتے ہوں اور نہایت آسانی سے اپنے مقامات منازل کو دیکھ لیتا ہو۔ عین ممکن ہے کہ مرنے والوں کی نگاہوں سے سارے حجاب اٹھا کر ان کی نظر کو حضرتِ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے مزارِ مبارک تک پہنچا دیا جاتا ہو اور وہ بلا واسطہ ان کو دیکھ لیتا ہو۔
اقتباس:
جہاں سورج نہیں ڈھلتا۔
پروفیسر احمد رفیق اختر

Related Articles

Check Also
Close
Back to top button