اسلام وعلیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ ایک جگہ آپ نے کہا وضو کے بغیر قرآن پر سکتے ہے اور ایک جگہ آپ نے مقصد تخلیق کائنات آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات ہے اس حدیث کو کہا کہ قرآن سے ٹکراتی ہے اور پروفیسر صاحب کی کتاب میں لکھا ہے کہ قرآن آپ وضو کے بغیر نہیں پڑھ سکتے اور ایک جگہ انھوں نے کہا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات اس دنیا کی تخلیق کا مقصد حیات ہے سوال یہ ہے کہ تضاد کیوں ہے؟
یہ تضاد بالکل نہیں ہے بلکہ تحقیق اور جستجو کا بنیادی اصول ہے کہ اندھی عقیدت اور تقلید سے دور رہا جائے، اگر استاد سے کوئی غلطی ہوتی ہے تو شاگردوں کا کام ہے کہ ان غلطیوں کی تصحیح کریں، نہ کہ غلطی کا دفاع کرنا شروع کر دیں۔ پروفیسر صاحب کا خود ہی کہنا ہے کہ جہاں عقیدت بنتی ہے وہاں ایک بت خانہ تخلیق ہو جاتا ہے اور یہی عقیدت جستجو اور تحقیق کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ ہے۔
اسلامی تاریخ گواہ ہے کہ استاد اور شاگرد کے درمیان علمی اختلاف (Scholarly Disagreement) کوئی معیوب بات نہیں بلکہ مکتبۂ فکر میں یہ علم کے زندہ ہونے کی دلیل ہے۔ یہ روایت خود اصحابِ رسول ﷺ سے چلی آ رہی ہے۔ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے مابین بھی فقہی مسائل پر شدید اختلافات ہوتے تھے، لیکن ان کا ماخذ ہمیشہ قرآن و سنت کی فہم تھی۔ یہ اختلافات ذاتی نہیں بلکہ علمی نوعیت کے تھے اور اس بات کا ثبوت تھے کہ اسلام میں “اندھی تقلید” کی کوئی گنجائش نہیں ہے۔ سوائے نبی کریم ﷺ کی ذاتِ مبارکہ کے، کائنات کا ہر انسان خطا کا پتلا ہے اور اس کی بات سے اختلاف کیا جا سکتا ہے اور اتفاق بھی کیا جا سکتا۔
اس کی سب سے بہترین تاریخی مثال فقہ حنفی کے بانی امام ابو حنیفہ رحمۃ اللہ علیہ اور ان کے جلیل القدر شاگردوں، امام ابو یوسفؒ اور امام محمدؒ (صاحبین) کی ہے۔ امام ابو یوسفؒ نے بعض مسائل میں امام ابو حنیفہؒ سے اختلاف کیا۔ امام محمدؒ نے کئی فتاویٰ میں اپنے استاد امام ابو حنیفہؒ کے بالکل برعکس رائے دی۔ امام شافعیؒ کے شاگرد امام المزنیؒ نے بعض مسائل میں مختلف موقف اختیار کیا۔ امام مالکؒ کے شاگرد ابن القاسمؒ نے کئی مسائل میں استاد سے اختلاف کیا۔
امام احمد بن حنبلؒ کے شاگرد اسحاق بن راہویہؒ نے بھی مختلف آراء پیش کیں۔ یہ سب اختلافات قرآن و حدیث کی بنیاد پر تھے، نہ کہ اندھی تقلید پر۔
امام مالکؒ کا یہ مشہور قول اسی حقیقت کی عکاسی کرتا ہے کہ:
– “اس قبر والے (یعنی نبی کریم ﷺ) کے سوا ہر شخص کی بات مانی بھی جا سکتی ہے اور رد بھی کی جا سکتی ہے۔”
والسلام