قبولیتِ دعا میں تاخیر اور اللہ سے ظلم کو منسوب کرنا

قبولیتِ دعا میں تاخیر اور اللہ سے ظلم کو منسوب کرنا
کتاب: فتوح الغیب
مؤلف: شیخ محی الدین عبدالقادر جیلانیؒ
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
اے سالک! دعا کے قبول ہونے میں دیر ہو جانے پر تو خدا پر ناراض کیوں ہوتا ہے؟ تو کہتا ہے کہ خلقت سے سوال کرنا مجھ پر حرام کر دیا گیا ہے اور اللہ نے واجب ٹھہرایا ہے کہ میں اس کے آگے سوال کروں، پھر جب میں اس کے آگے دستِ سوال دراز کرتا ہوں، اس سے مانگتا ہوں تو وہ مجھے جواب نہیں دیتا۔

تجھ سے پوچھا جائے گا کہ تُو آزاد ہے یا غلام؟ اگر تُو جواب دے کہ میں غلام ہوں تو تجھ سے پوچھاجائے گا کہ تیر ی دعا کی قبولیت میں دیر ہونے پر تو اپنے مالک پر تہمت کیوں لگاتا ہے؟ اسکی حکمت میں اور تجھ پر اور ساری خلقت پر اسکی رحمت میں اور اسے خلقت کے حالات کا علم ہونے میں تو شک کیوں کرتا ہے؟ کیا تو اس پر تہمت رکھنے والا نہیں؟

اگر تو اللہ تعالی پر تہمت لگانے والا نہیں اور تیری دعا کی قبولیت میں دیر میں تو اسکی حکمت، ارادہ اور مصلحت کو تسلیم کرتا ہے تو تجھے اسکاشکر گزار ہونا چاہیے، کیوں کہ اس نے تیرے لئے بہتر چیز اور نعمت اور فساد دور کرنا پسند کیا ہے۔

اگر تو دعا کی قبولیت میں تاخیر کے باعث تُو اس پر تہمت لگانے والا ہے تو اس تہمت لگانے کی وجہ سے تُو کُفر کرنیوالا ہے، کیوں کہ تُو نے اللہ پر تہمت لگا کر اسے کسی ظالم شخص سے نسبت دے دی ہے، حالانکہ وہ اپنے بندوں کیلئے کبھی ظالم نہیں، نہ وہ ظلم قبول کرتا ہے، اسکی ذات سے ظلم کی ہر گز توقع نہیں ہو سکتی، کیوں کہ وہ تیرا اور ہر شے کا مالک ہے، مالک اپنی ملکیت میں جس طرح چاہے ردّ و بدل کر سکتا ہے، ظلم کے نام کا اُس پر اطلاق نہیں ہو سکتا، ظالم تو وہ ہے، جو کسی دوسرے کی ملکیت چیزوں میں اُسکی اجازت کے بغیر ردّ و بدل کرے

Leave a Comment