السلام علیکم جنید صاحب، آپ ٹھیک ہیں؟
سر، اس معاملے میں کچھ رہنمائی چاہیے۔ میں صحیح مسلم کی کتاب الفتن میں ایک حدیث پڑھ رہا تھا، جس میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ عنقریب فتنے برپا ہوں گے۔ ان فتنوں میں بیٹھا ہوا کھڑے ہونے والے سے بہتر ہوگا، کھڑا ہوا چلنے والے سے بہتر ہوگا، اور چلنے والا دوڑنے والے سے بہتر ہوگا۔ساتھ یہ بھی ذکر ہے کہ ایک شخص نے پوچھا: اے اللہ کے رسول، جس کے پاس نہ اونٹ ہوں، نہ بکریاں ہوں، اور نہ زمین ہو، وہ کیا کرے؟ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ وہ اپنی تلوار لے کر اس کی دھار کو پتھر سے ماند کر دے، پھر اگر وہ نجات حاصل کرنے کی طاقت رکھتا ہو تو نجات حاصل کر لے۔
تو سر، آج کے دور میں جس وقت سے ہم گزر رہے ہیں، ہم ان فتنوں کو کیسے سمجھ سکتے ہیں؟ اس بارے میں تھوڑی رہنمائی فرما دیں۔ کیا یہ وہی دور ہے؟

فتن کے موضوع پر ہر حدیث ہی بہت اہم ہے اور اس حدیث کی اہمیت اس لیے بھی دوچند ہو جاتی ہے کہ یہ ہمیں جذباتی فیصلوں کی بجائے دور اندیشی اور غیر جانبداری کا درس دیتی ہے۔
اسلامی تعلیمات میں فتنہ اس صورت حال کو کہتے ہیں جب حق اور باطل آپس میں خلط ملط ہو جائیں اور مسلمانوں کے مابین خونریزی یا شدید اختلاف پیدا ہو جائے جس میں یہ تمیز کرنا مشکل ہو کہ کون حق پر ہے اور کون باطل پر۔ فتن کے بارے میں اللہ کا قرآن میں ارشاد ہے:
يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا عَلَيْكُمْ أَنْفُسَكُمْ لَا يَضُرُّكُمْ مَنْ ضَلَّ إِذَا اهْتَدَيْتُمْ إِلَى اللَّهِ مَرْجِعُكُمْ جَمِيعًا فَيُنَبِّئُكُمْ بِمَا كُنْتُمْ تَعْمَلُونَ
اے ایمان والو، صرف اپنی فکر کرو۔ جب تم ہدایت پر قائم ہو تو جو کوئی گمراہ ہو جائے وہ تمہیں نقصان نہیں پہنچا سکتا۔ تم سب کو اللہ ہی کی طرف لوٹ کر جانا ہے، پھر وہ تمہیں بتا دے گا جو کچھ تم کیا کرتے تھے۔
سورۃ المائدہ، آیت 105
حضرت ابو ثعلبہ خشنی رضی اللہ عنہ نے اس مندرجہ بالا آیت کے بارے میں خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا تھا، تو آپ ﷺ نے فرمایا:
بَلِ ائْتَمِرُوا بِالْمَعْرُوفِ، وَتَنَاهَوْا عَنِ الْمُنْكَرِ، حَتَّى إِذَا رَأَيْتَ شُحًّا مُطَاعًا، وَهَوًى مُتَّبَعًا، وَدُنْيَا مُؤْثَرَةً، وَإِعْجَابَ كُلِّ ذِي رَأْيٍ بِرَأْيِهِ، فَعَلَيْكَ بِخَاصَّةِ نَفْسِكَ وَدَعِ الْعَوَامَّ
‘(عام حالات میں) تم نیکی کا حکم دیتے رہو اور برائی سے روکتے رہو، یہاں تک کہ جب تم دیکھو کہ لالچ اور بخل کی اطاعت کی جا رہی ہے، خواہشات کی پیروی ہو رہی ہے، دنیا کو (آخرت پر) ترجیح دی جا رہی ہے اور ہر رائے رکھنے والا اپنی ہی رائے پر نازاں ہے (اور کسی کی نہیں سن رہا)، تو پھر تم خاص اپنی فکر کرو اور عوام (کے شور) کو چھوڑ دو۔'”
(سنن ابی داؤد: 4341 / جامع ترمذی: 3058)
فتن کی نفسیات یوں ہیں کہ ہر شخص دوسرے شخص سے شدید اختلاف میں ہے اور اختلافات کی زد میں ا کر جب شور اتنا بڑھ جائے کہ کان پڑی آواز سنائی نہ دے، تو وہاں بیچ میں بولنا اصلاح نہیں بلکہ ہنگامے کو مزید بڑھانے کا سبب بنتا ہے۔ ایسے حالات میں دانشمندی یہی ہے کہ انسان خاموش رہے اور اپنی اصلاح کی فکر کرے۔ جب تک اللہ کے حکم سے یہ شور خود تھم نہیں جاتا اور حالات سازگار نہیں ہوتے، تب تک صبر کریں، کیونکہ تب ہی آپ کی بات سنی اور سمجھی جائے گی۔ اس وقت مسئلہ یہ ہے کہ جو بھی بول رہا ہے وہ اسی فتنے اور شور کا حصہ بن رہا ہے۔ لہٰذا اگر آپ صرف اپنے آپ کو، اپنے گھر والوں کو اور قریبی دوستوں کو سنبھال لیں تو یہی کافی ہے، اور یہی اللہ اور اس کے رسول ﷺ کا حکم ہے۔ حضرت مریم علیہا السلام جب حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو گود میں لے کر آئیں تو یہ ایک بہت بڑا “فتنہ یعنی آزمائش” تھی۔ لوگ ان پر بدکاری کا الزام لگا رہے تھے۔ یہ وہ شور تھا جہاں کوئی بھی مریم علیہا السلام کی پاکیزگی کی دلیل سننے کو تیار نہ تھا۔ اگر وہ بولتیں، صفائیاں پیش کرتیں، تو ان کی آواز بھی تہمتوں کے اس شور میں دب جاتی۔ اللہ تعالیٰ نے انہیں اس “شور” سے نمٹنے کا ایک طریقہ سکھایا:
فَقُولِي إِنِّي نَذَرْتُ لِلرَّحْمَٰنِ صَوْمًا فَلَنْ أُكَلِّمَ الْيَوْمَ إِنسِيًّا
”(اے مریم!) تم کہہ دینا کہ میں نے رحمان کے لیے (خاموشی کے) روزے کی منت مانی ہے، سو میں آج کسی انسان سے ہرگز بات نہیں کروں گی۔“
(سورۃ مریم: 26)
اس آیت میں ایک بہت بڑا راز پوشیدہ ہے۔ جب معاشرہ جذباتیت، الزامات اور اندھے شور میں مبتلا ہو، تو وہاں “حق بات” بھی اپنا اثر کھو دیتی ہے۔ ایسے موقع پر جب ماحول سازگار نہ ہو تو خاموشی اختیار کرنا “حق کو چھپانا” نہیں بلکہ “حق کی حفاظت” کرنا ہے تاکہ وہ فضول بحثوں میں الجھ نہ جائے۔
آج کے دور میں “تلوار توڑنے” کا اطلاق صرف لوہے کی تلوار پر نہیں ہوتا بلکہ اس کا اطلاق ہر اس ہتھیار پر ہوتا ہے جو فساد کا سبب بنے۔ موجودہ دور میں ہماری زبان، ہمارا قلم اور ہمارا سوشل میڈیا اکاؤنٹ بھی “تلوار” کا حکم رکھتے ہیں۔ اگر ہم سوشل میڈیا پر یا اپنی گفتگو کے ذریعے مسلمانوں کے درمیان نفرت پھیلا رہے ہیں، فرقہ واریت کو ہوا دے رہے ہیں یا کسی گروہ کی اندھی حمایت میں دوسرے مسلمانوں کی تکفیر کر رہے ہیں، تو ہم “فتنے میں دوڑنے والے” ہیں۔ لہٰذا، آج کے دور میں تلوار کو پتھر پر مارنے کا مطلب یہ ہے کہ اپنے سوشل میڈیا اکاؤنٹس کو نفرت پھیلانے کے لیے استعمال نہ کریں، اپنی زبان کو خاموش کر لیں، اور ایسے بحث مباحثوں سے اپنے آپ کو “غیر فعال” (Deactivate) کر لیں جو امت میں انتشار کا باعث بن رہے ہوں۔
واللہ وارسلہ اعلم