Asalam o alaikum junaid bhai.
Bhai I’ve a question that what if a non Muslim is a part of Muslim army or police۔ Then in a fight and if he killed then would he considered martyred ?
شہادت کے لیے ایمان شرطِ اول ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
“من قاتل لتكون كلمة الله هي العليا فهو في سبيل الله”
جو اللہ کے کلمے کو بلند کرنے کے لیے لڑے وہی اللہ کی راہ میں ہے۔
(صحیح بخاری، صحیح مسلم)
اس سے معلوم ہوا کہ شہادت ایمان اور نیتِ فی سبیل اللہ کے ساتھ مشروط ہے۔غیر مسلم حلیف اگر وہ مسلمانوں کے ساتھ لڑے تو دنیاوی حقوق (مثلاً مالِ غنیمت میں حصہ، عزت و احترام) دیے جا سکتے ہیں، مگر شہید اللہ کا دیا گیا ٹائٹل ہے نہ کہ انسانوں کا۔
غزوہ احد کے موقع پر ایک شخص “قزمان” مسلمانوں کے لشکر میں شامل تھا (بعض روایات کے مطابق وہ منافق یا مشرک تھا، لیکن مسلمانوں کے ساتھ مل کر لڑا)۔ اس نے انتہا درجے کی بہادری دکھائی اور اکیلے ہی 7 یا 8 کافروں کو جہنم واصل کیا۔
صحابہ کرامؓ نے اس کی بہادری دیکھ کر کہا کہ آج قزمان نے حق ادا کر دیا۔ لیکن نبی کریم ﷺ نے فرمایا:
”وہ آگ (جہنم) میں ہے۔”
صحابہؓ کو حیرت ہوئی۔ بعد میں پتا چلا کہ جب وہ شدید زخمی ہوا تو درد کی تاب نہ لاتے ہوئے اس نے خودکشی کر لی یا یہ کہا کہ “میں تو صرف اپنی قوم کی عزت کے لیے لڑا ہوں، اسلام کے لیے نہیں۔”
حوالہ:
صحیح بخاری، کتاب المغازی، باب غزوة أحد، حدیث نمبر: 2898
صحیح مسلم، کتاب الإيمان، باب غزوة أحد، حدیث نمبر: 111
ابن ہشام، السيرة النبوية، ذکر غزوة أحد
اس حدیث سے یہ اصول طے ہوا کہ اگر کوئی شخص مسلمانوں کی فوج میں ہو، بہادری سے لڑے اور مارا جائے، لیکن اس کا مقصد “اللہ کی رضا” نہ ہو یا وہ “دائرہ اسلام” میں نہ ہو، تو وہ “شہید” نہیں کہلائے گا۔
اسی طرح ابن اسحاق نے ایک روایت کیا:
غزوہ اُحد میں “مُخَيْرِيق” نامی یہودی عالم نے مسلمانوں کے ساتھ لڑتے ہوئے جان دی، جس کا تعلق بنی ثعلبہ بن الفطیون سے تھا۔ راوی کہتے ہیں کہ جب احد کا دن آیا تو مخیریق نے کہا: ‘اے گروہِ یہود! اللہ کی قسم تم بخوبی جانتے ہو کہ محمد (ﷺ) کی مدد کرنا تم پر حق (لازم) ہے۔’ انہوں نے کہا: ‘آج تو ہفتے (سبت) کا دن ہے۔’ اس نے کہا: ‘تمہارے لیے کوئی ہفتہ نہیں ہے۔’
پھر اس نے اپنی تلوار اور ساز و سامان اٹھایا اور کہا: ‘اگر میں مارا جاؤں تو میرا مال محمد (ﷺ) کا ہے، وہ اس میں جو چاہیں تصرف کریں۔’ پھر وہ رسول اللہ ﷺ کے پاس گیا اور آپ کے ہمراہ لڑائی میں شامل ہوگیا یہاں تک کہ قتل ہوگیا۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
«مُخَيْرِيقُ خَيْرُ يَهُودَ»
(مخیریق یہودیوں میں سب سے بہتر تھا)۔
امام سہیلی کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے مخیریق کے اموال کو—جو سات باغات پر مشتمل تھے—مدینہ میں وقف فرما دیا۔ محمد بن کعب القرظی کہتے ہیں کہ یہ مدینہ میں (اسلام کا) سب سے پہلا وقف تھا۔”
حوالہ جات
– ابن اسحاق، السيرة النبوية (روایت ابن ہشام)
– ابن سعد، الطبقات الكبرى (ذکر غزوة أحد)
– السهيلي، الروض الأنف (ذکر أموال مخيريق ووقفها)
اصحابِ رسول اس بات پر متفق تھے کہ “شہید” وہ ہے جس کی نمازِ جنازہ پڑھی جائے اور جس کے لیے دعائے مغفرت کی جا سکے۔ چونکہ غیر مسلم کی نمازِ جنازہ نہیں پڑھی جاتی، اس لیے صحابہ کے دور میں کبھی کسی غیر مسلم مقتول کو “شہید” کا لقب نہیں دیا گیا۔ البتہ اس شخص کی عزت و تکریم وہ ضرور کرتے تھے۔