“السلام علیکم جنید بھائی! میں فیصل آباد سے عثمان ہوں۔ استاد صاحب نے جو یہ فرمایا ہے کہ: ‘زمین و آسمان کی تخلیقات پر غور کرتے ہیں’، برائے مہربانی اس کا مطلب سمجھا دیں۔
پروفیسر احمد رفیق اختر صاحب کا یہ جملہ دراصل قرآنِ پاک کی ان آیات کا نچوڑ ہے جن میں اللہ تعالیٰ انسان کو اپنی عقل استعمال کرنے اور کائنات کے نظام پر غور و فکر کرنے کی دعوت دیتا ہے۔
وہ لوگ جو سائنس، کائنات اور فطرت کو دیکھ کر یہ جان لیتے ہیں کہ اس کے پیچھے ایک “خالق” موجود ہے، وہ اللہ کے قریب ہو جاتے ہیں۔ وہ اندھی تقلید نہیں کرتے بلکہ وہ اپنے رب کو اپنی عقل سے پہچانتے ہیں۔ اللہ کو اپنی دی ہوئی نعمت (عقل) کا استعمال بہت پسند ہے۔
إِنَّ فِي خَلْقِ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ وَاخْتِلَافِ اللَّيْلِ وَالنَّهَارِ لَآيَاتٍ لِّأُولِي الْأَلْبَابِ الَّذِينَ يَذْكُرُونَ اللَّهَ قِيَامًا وَقُعُودًا وَعَلَىٰ جُنُوبِهِمْ وَيَتَفَكَّرُونَ فِي خَلْقِ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ رَبَّنَا مَا خَلَقْتَ هَذَا بَاطِلًا سُبْحَانَكَ فَقِنَا عَذَابَ النَّارِ
ترجمہ:
”بے شک آسمانوں اور زمین کی تخلیق میں اور رات اور دن کے باری باری آنے جانے میں اُن عقل والوں کے لیے بڑی نشانیاں ہیں، جو اٹھتے، بیٹھتے اور اپنے پہلوؤں پر لیٹتے ہوئے اللہ کو یاد کرتے ہیں اور آسمانوں اور زمین کی تخلیق میں غور و فکر کرتے ہیں (اور بے اختیار پکار اٹھتے ہیں کہ) اے ہمارے رب! تو نے یہ سب بے مقصد پیدا نہیں کیا، تو (ہر عیب سے) پاک ہے، پس ہمیں دوزخ کے عذاب سے بچا لے۔”
(سورۃ آل عمران: 190-191)
ان آیات کے نازل ہونے کے بعد آپﷺ نے حضرت بلالؐ سے فرمایا:
وَيْلٌ لِمَنْ قَرَأَهَا وَلَمْ يَتَفَكَّرْ فِيهَا
ہلاکت ہے اس شخص کے لیے جو یہ آیات پڑھے اور ان میں غور نہ کرے۔
کتاب: صحیح ابن حبان، حدیث 620
اللہ تعالیٰ کے نزدیک وہ لوگ غافل ہیں جو کائنات کی نشانیوں کے پاس سے گزر جاتے ہیں لیکن ان پر توجہ نہیں دیتے۔ پروفیسر صاحب کے جملے “ہم وہ مقصد پورا نہیں کر رہے” کی تشریح اس آیت سے ہوتی ہے:
وَكَأَيِّن مِّن آيَةٍ فِي السَّمَاوَاتِ وَالأَرْضِ يَمُرُّونَ عَلَيْهَا وَهُمْ عَنْهَا مُعْرِضُونَ
”اور آسمانوں اور زمین میں کتنی ہی نشانیاں ہیں جن پر سے یہ لوگ گزرتے ہیں اور ان سے منہ پھیرے رہتے ہیں۔”
(سورۃ یوسف: 105)
آج کا مسلمان صرف رسمی عبادات (جیسے ربوٹِک انداز میں نماز پڑھ لینا) تک محدود ہو گیا ہے۔ ہم تحقیق، سائنس اور کائنات کی تسخیر کے اس مقصد کو بھول گئے ہیں جس کا حکم قرآن نے دیا تھا۔ اسی لیے ہم وہ “اصل مقصد” پورا نہیں کر پا رہے جو اللہ ہم سے چاہتا ہے۔