دکھ درد میں کی گئی دعا کی قبولیت

السلام علیکم بھائی ان دو سوالوں کے جواب دے دیں
جزاک اللہ
سوال نمبر 1

اگر کوئی شخص صرف زبان سے یہ دعا کرے کہ اسے ہدایت مل جائے،
لیکن وہ اس کے لیے کوئی عمل یا کوشش نہ کرے،
نہ کوئی قدم اٹھائے،
نہ کوئی گناہ چھوڑے،
نہ نیکیوں کی کوشش کرے —
تو اپنے لیے ایسی دعا کرنا کیسا ہے؟

سوال نمبر 2

اگر کوئی انسان کسی اور کے لیے یہ دعا کرے کہ
اللہ اس شخص کو ہدایت دے،
جبکہ وہ شخص خود اپنے لیے نہ دعا کرتا ہے
اور نہ ہی ہدایت حاصل کرنے کے لیے کوئی کوشش کرتا ہے۔
(کیا اس کی مثال حضرت نوح علیہ السلام کے بیٹے سے لی جا سکتی ہے؟
جب انہوں نے بیٹے کے لیے دعا کی تو انہیں روک دیا گیا تھا — سورہ ہود میں موجود )

آپ کے پہلے سوال کا جواب ہے کہ “دعا” اور “دوا” (تدبیر/کوشش) دونوں لازم و ملزوم ہیں۔ صرف زبان سے دعا کرنا اور ہاتھ پاؤں نہ ہلانا اللہ کے قانون (سنت اللہ) کے خلاف ہے، اللہ کا قرآن میں ارشاد گرامی ہے:

إِنَّ اللَّهَ لَا يُغَيِّرُ مَا بِقَوْمٍ حَتَّىٰ يُغَيِّرُوا مَا بِأَنفُسِهِمْ
یقیناً اللہ کسی قوم کی حالت نہیں بدلتا جب تک کہ وہ خود اپنے آپ کو نہ بدل لیں۔

​ (سورۃ الرعد: 11)

دوسری جگہ اللہ کا ارشاد گرامی ہے کہ

وَالَّذِينَ جَاهَدُوا فِينَا لَنَهْدِيَنَّهُمْ سُبُلَنَا
جو لوگ ہمارے راستے میں کوشش کرتے ہیں، ہم ضرور انہیں اپنی راہیں دکھا دیتے ہیں۔

سورۃ العنکبوت، آیت 69

اس سے معلوم ہوتا ہے کہ حسبِ استطاعت اور حسبِ توفیق کوشش کا اللہ کے ہاں ایک مقام ہے، وہ ہدایت کی شکل میں ہو یا رزق کی شکل میں ہو۔ رسول اللہ ﷺ کا ارشاد گرامی ہے:

الْمُؤْمِنُ الْقَوِيُّ خَيْرٌ وَأَحَبُّ إِلَى اللَّهِ مِنَ الْمُؤْمِنِ الضَّعِيفِ، وَفِي كُلٍّ خَيْرٌ، احْرِصْ عَلَى مَا يَنْفَعُكَ، وَاسْتَعِنْ بِاللَّهِ وَلاَ تَعْجِزْ
طاقتور مومن اللہ کے نزدیک کمزور مومن سے بہتر اور زیادہ محبوب ہے، حالانکہ خیر دونوں میں ہے۔ جو چیز تمہیں نفع دے اس (کے حاصل کرنے) کی پرزور کوشش کرو، اور اللہ سے مدد مانگو اور ہمت نہ ہارو (عاجز نہ بنو)۔

​(صحیح مسلم: کتاب القدر، حدیث نمبر: 2664)

اس حدیث میں لفظ “احْرِصْ” استعمال ہوا ہے جس کا مطلب صرف کوشش نہیں بلکہ “لالچ کی حد تک شدید خواہش اور بھاگ دوڑ” کرنا ہے۔ نبی کریم ﷺ نے پہلے کوشش کا حکم دیا اور اس کے فوراً بعد فرمایا “وَاسْتَعِنْ بِاللَّهِ” (اللہ سے مدد مانگو)۔ یعنی پہلے قدم اٹھاؤ، پھر دعا کرو۔ اور آخری اور اہم بات یہ ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کوشش کرنے والے شخص کو طاقتور مومن کہا اور کوشش نہ کرنے والے شخص کو کمزور مومن کہا۔

ایک دوسری حدیث میں ​رسول اللہ ﷺ نے توکل کا صحیح مفہوم یوں سمجھایا، حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ایک شخص نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! کیا میں اونٹنی کا گھٹنا باندھ کر توکل کروں یا اسے کھلا چھوڑ کر توکل کروں؟آپ ﷺ نے فرمایا:

‏”‏ اعْقِلْهَا وَتَوَكَّلْ ‏”‏
“اسے باندھو اور پھر توکل کرو۔”

​(جامع ترمذی: 2517 – باب صفۃ القیامۃ)

حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کا قول ہے:

لَا يَقْعُدُ أَحَدُكُمْ عَنِ طَلَبِ الرِّزْقِ، وَيَقُولُ: اللَّهُمَّ ارْزُقْنِي، وَقَدْ عَلِمْتُمْ أَنَّ السَّمَاءَ لَا تُمْطِرُ ذَهَبًا وَلَا فِضَّةً
تم میں سے کوئی شخص رزق کی تلاش چھوڑ کر نہ بیٹھ جائے اور (صرف) یہ کہے: “اے اللہ! مجھے رزق دے”، حالانکہ تم خوب جانتے ہو کہ آسمان سے سونا اور چاندی نہیں برستا۔

​(المصنف لابن ابي شيبۃ: ج 5، ص 222، حدیث نمبر: 25454)

حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے واضح کر دیا کہ اللہ کا قانون (سنت اللہ) یہ ہے کہ وہ رزق اسباب کے ذریعے دیتا ہے۔ جیسے آسمان سے براہ راست سونا نہیں گرتا، ویسے ہی آسمان سے براہ راست ہدایت یا رزق پلیٹ میں رکھ کر نہیں ملتا جب تک انسان ہاتھ پیر نہ ہلائے۔

ایک بڑے مشہور محدث اور تابعی وہب بن منبہ رحمۃ اللہ علیہ سے منسوب ایک بہت خوبصورت قول ہے:

مَثَلُ الَّذِي يَدْعُو بِغَيْرِ عَمَلٍ ، كَمَثَلِ الَّذِي يَرْمِي بِغَيْرِ وَتَرٍ
جو شخص بغیر عمل کے دعا کرتا ہے، اس کی مثال اس شخص جیسی ہے جو بغیر “تانت” (کمان کی ڈوری) کے تیر چلاتا ہے۔

​ (المصنف لابن ابی شیبۃ: 7/46)

مطلب ایسی دعا کرنا “حرام” تو نہیں لیکن یہ “استہزاء” (مذاق) کے زمرے میں آ سکتا ہے۔ اگر کوئی شخص گناہ چھوڑنے کی سنجیدہ کوشش (مجاہدہ) نہیں کرتا اور صرف زبان ہلاتا ہے۔

آپ کے دوسرے سوال کا جواب یہ ہے کہ دوسروں کے لیے ہدایت کی دعا ہر حال میں کرنی چاہیے، چاہے وہ خود کوشش نہ کر رہے ہوں۔ حضرت نوح علیہ السلام والی مثال جس میں انہوں نے دعا اپنے بیٹے کے لیے کی لیکن خدا نے اس کو قبول نہیں کیا یہ اصول تب لاگو ہوتا ہے جب کسی کا خاتمہ کفر پر ہو جائے یا پھر اس پر عذابِ الٰہی نازل ہو جائے، حضرت نوح نے اپنے بیٹے کے لیے تب دعا مانگی جب اللہ نے ان پر عذاب کا فیصلہ کر لیا اور عذاب آ چکا:

قَالَ يَا نُوحُ إِنَّهُ لَيْسَ مِنْ أَهْلِكَ ۖ إِنَّهُ عَمَلٌ غَيْرُ صَالِحٍ ۖ فَلَا تَسْأَلْنِ مَا لَيْسَ لَكَ بِهِ عِلْمٌ
(اللہ نے) فرمایا: اے نوح! یقیناً وہ تیرے گھر والوں میں سے نہیں ہے، یقیناً اس کے عمل بالکل بھی نیک نہیں ہیں، لہذا مجھ سے وہ سوال نہ کر جس کا تجھے علم نہیں ہے۔

​ (سورۃ ہود: 46)

اس آیت کا ایک خاص سیاق و سباق ہے جو میں نے اوپر آپ کو بتا دیا ہے، رسول اللہ ﷺ نے ان لوگوں کے لیے بھی دعا کی جو اس وقت ہدایت کی کوشش نہیں کر رہے تھے بلکہ اسلام کے سخت دشمن تھے:

اللَّهُمَّ أَعِزَّ الإِسْلاَمَ بِأَحَبِّ هَذَيْنِ الرَّجُلَيْنِ إِلَيْكَ بِأَبِي جَهْلٍ أَوْ بِعُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ
اے اللہ! ان دو آدمیوں میں سے جو تجھے زیادہ محبوب ہے اس کے ذریعے اسلام کو عزت دے، ابو جہل کے ذریعے یا عمر بن خطاب کے ذریعے۔

​ (جامع ترمذی: 3681)

اسیطرح نبی ﷺ نے دوس قبیلہ کے لیے دعا کی:

اللّٰهُمَّ اهْدِ دَوْسًا وَأْتِ بِهِمْ
اے اللہ! قبیلہ دوس کو ہدایت دے اور انہیں لے آ۔

صحیح بخاری، حدیث 2937

حالانکہ وہ قبیلے والے خود کوشش نہیں کر رہے تھے—بعد میں وہ مسلمان ہوئے۔ لہذا جب تک انسان زندہ ہے، اس کے لیے ہدایت کی دعا کرنا منع نہیں ہے۔ حضرت نوح علیہ السلام نے ساڑھے نو سو سال تک اپنی قوم اور بیٹے کے لیے کوشش بھی کی اور دعا بھی۔ منع تب کیا گیا جب “مہلت عمل” ختم ہو گئی۔

والسلام