اَلسَلامُ عَلَيْكُم وَرَحْمَةُ اَللهِ وَبَرَكاتُهُ
سر مجھے ایک سوال کا جواب درکار ہے۔
اسلام میں ہم نا محرم سے ہاتھ نہیں ملا سکتے۔
ہمارے معاشرے میں ہم تعظیما اپنے بڑوں سے سلام نہیں لیتے بلکہ تعظیما ہمارے بڑے ہمارے سر پہ دست شفقت رکھتے ہیں یعنی کہ سر پہ ہاتھ پھیرنا ۔
کیا یہ جاٸز ہے۔
اسکے علاوہ اللہ پاک کے قرب حاص کو پانے کے لیے راہنماٸی چاہیے کوٸی تسبی عنایت فرماٸں
اسلام میں “محرم” اور “نامحرم” کے احکام بہت واضح ہیں۔ محرم وہ ہیں جن سے نکاح ہمیشہ کے لیے حرام ہے (جیسے باپ، بھائی، چچا، ماموں وغیرہ) اور نامحرم وہ ہیں جن سے نکاح ہو سکتا ہے (جیسے کزن، بہنوئی، یا غیر رشتہ دار)۔
رسول اللہﷺ نے فرمایا:
لَأَنْ يُطْعَنَ فِي رَأْسِ أَحَدِكُمْ بِمِخْيَطٍ مِنْ حَدِيدٍ خَيْرٌ لَهُ مِنْ أَنْ يَمَسَّ امْرَأَةً لَا تَحِلُّ لَهُ
کسی غیر محرم عورت کو چھونا اس سے بدتر ہے کہ کسی کے سر میں لوہے کی سوئی چبھو دی جائے۔”
صحیح: البانی
(المعجم الکبیر للطبرانی، حدیث: 486)
اس مسئلے میں چاروں ائمہ (امام ابوحنیفہ، امام مالک، امام شافعی، امام احمد بن حنبل رحمہم اللہ) کا اصولی موقف یہ ہے کہ نامحرم کو چھونا (لمس) حرام ہے۔
فقہ حنفی کی مشہور کتاب رد المحتار (شامی) اور فتاویٰ عالمگیری کے مطابق، اگر مرد اور نامحرم عورت کے درمیان کوئی ایسا موٹا کپڑا (حائل) موجود ہو تو اس صورت میں “لمس” (چھونے) کا وہ سخت حکم لاگو نہیں ہوتا جو براہِ راست جلد سے جلد (Skin to skin) ملنے کا ہے۔ اگر مرد بہت بوڑھا (Elderly) ہے جسے فقہ کی اصطلاح میں “شیخِ فانی” یا اتنا بوڑھا کہا جائے جس کی طرف رغبت نہیں ہوتی، تو اس کے لیے اس کلچرل عمل (سر پر ہاتھ پھیرنے) کی گنجائش “چادر کے اوپر سے” نکلتی ہے۔
سوال یہ ہے کہ سر پر ہاتھ رکھنے کا کلچر کہاں سے نکلا؟ برصغیر کی تاریخ میں “سر” عزت کا سب سے بڑا مرکز ہے۔ مرد کے لیے پگڑی عزت تھی۔ عورت کے لیے چادر/دوپٹہ عزت تھی۔ تاریخی طور پر جب کوئی بادشاہ یا سردار کسی کو اپنی پناہ میں لیتا تھا تو اس کے سر پر ہاتھ رکھتا یا اس کے سر پر کپڑا ڈالتا تھا۔
جب مسلمان ہندوستان آئے اور یہاں کی ثقافت کے ساتھ گھل مل گئے (جسے گنگا جمنی تہذیب کہا جاتا ہے)، تو انہوں نے عربی “زبانی سلام” کے ساتھ ساتھ مقامی “ہاتھ رکھنے” کی روایت کو بھی اپنا لیا۔ مسلمانوں میں یہ تصور رائج ہوا کہ سر پر ہاتھ رکھنا “سایہ عاطفت” (سایہ فراہم کرنے) کی نشانی ہے۔ یعنی “میں تمہاری حفاظت کا ذمہ دار ہوں۔”
برصغیر کی تاریخ میں صوفیاء کے کردار کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ اگرچہ شرعی طور پر صوفیاء محتاط تھے، لیکن عوامی سطح پر عقیدت مند خواتین اپنے پیروں یا بزرگوں سے “دستِ شفقت” کی طلبگار ہوتی تھیں۔ لوگوں کا ماننا تھا کہ اللہ والوں کے ہاتھ میں “برکت” ہوتی ہے۔
تاریخی حوالوں میں ملتا ہے کہ عوام الناس بزرگوں کے لمس کو بیماریوں سے شفا اور پریشانیوں سے نجات کا ذریعہ سمجھتے تھے۔ یہاں سے یہ کلچر عام گھرانوں کے بزرگوں میں بھی منتقل ہو گیا کہ بزرگ کا ہاتھ سر پر ہونا “دعا” کی قبولیت کی علامت سمجھا جانے لگا۔
برصغیر میں “مشترکہ خاندانی نظام” کی تاریخ بہت پرانی ہے۔ تاریخی کتب بتاتی ہیں کہ عرب معاشرے کے برعکس، جہاں خیموں کی زندگی اور پردے کی سخت دیواریں تھیں، برصغیر میں “آنگن” کا کلچر تھا۔ مشترکہ خاندان میں رہنے کی وجہ سے قریبی رشتہ داروں (جیسے جیٹھ یا سسر) کے لیے پردے کی وہ سختی برقرار نہ رہ سکی جو عرب میں تھی، اور “سر پر ہاتھ رکھنا” ایک ایسا اشارہ بن گیا جس کا مطلب تھا: “تم میری بیٹیوں جیسی ہو، میں تمہارا سرپرست (Guardian) ہوں۔
والسلام