اسلام و علیکم۔۔۔
جنید بھائی، آپ کی نظر سے خدا کے وجود پر جو مناظرہ ہوا انڈیا میں وہ گزرا ہوگا۔۔۔
اس میں جو جاوید اختر صاحب نے جو سطحی طنز اور غزہ کے نام پر جذباتیت سہارا لینے کی کوشش کی اور اس میں وہ کافی کامیاب بھی ہوۓ۔۔۔
میرے خیال میں مفتی صاحب نے سطحی مثالوں سے اس کیس کی حساسیت کو نقصان پہنچایا۔۔۔
آپ اس کو کیسے دیکھتے ہیں ؟؟
کسی بھی مناظرے کو پرکھنے کے دو زاویے ہوتے ہیں: ایک علمی اور دوسرا جذباتی۔ درحقیقت مناظرہ عوامی داد و تحسین (پذیرائی) کے لیے ہوتا ہے، علمی تحقیق کے لیے نہیں۔ علمی دنیا میں دلائل اور تحقیق کی اہمیت ہوتی ہے، جبکہ مناظرے میں جذبات کا سکہ چلتا ہے۔ اگر علمی اعتبار سے دیکھا جائے تو مفتی کا پلڑا بھاری تھا، لیکن جذباتی اور عوامی سطح پر جاوید نے بازی لے جانے کی کوشش کی۔ اسی لیے مناظرے کے لیے مفتی جیسے خالص علمی مزاج رکھنے والے شخص کی بجائے ایسے بندے کی ضرورت ہوتی ہے جو بیان بازی (Rhetoric) کا ماہر ہو، تاکہ وہ مدِمقابل کے جذباتی وار کا جواب اسی طرح کے جذباتی کاؤنٹر سے دے سکے۔
مجمع لوٹنے اور لوگوں کے جذبات سے کھیلنے میں جاوید اختر نے بازی لے جانے کی بھرپور کوشش کی۔ چونکہ وہ شاعر اور لکھاری بھی ہے، اسے پتہ ہے کہ عوام دماغ سے کم اور دل سے زیادہ سوچتی ہے۔ اس لیے اس نے منطق کا جواب دینے کی بجائے غزہ اور مظلوم بچوں کا ذکر چھیڑ کر سب کو جذباتی کرنے کی کوشش کی اور کسی حد تک وہ کامیاب بھی رہا۔ ادھر مفتی بالکل “ٹو دی پوائنٹ” رہا، اس کی باتیں سچی مگر خشک تھیں۔ جب سامنے والا لاشوں اور بھوک کی بات کر رہا ہو تو وہاں “گیند” یا “مشینوں” کی مثالیں لوگوں کو اچھی نہیں لگتیں، اس لیے عام بندے کو مفتی کا انداز تھوڑا روکھا لگا۔
اگر ہم ٹھنڈے دماغ سے اس مناظرے کو دیکھیں تو یہ بات صاف نظر آتی ہے کہ دلیل اور منطق کے حساب سے مفتی کا پلڑا بھاری تھا۔ اس نے کلاسیکل “کلامی” اور “فلسفیانہ” دلائل (امکان اور وجوب) کا سہارا لیا کہ “ہر ممکن الوجود چیز کو ایک واجب الوجود کی ضرورت ہوتی ہے”۔ یہ ایک مضبوط فلسفیانہ دلیل ہے جسے جاوید اختر رد نہیں کر سکا۔ جاوید نے فلسفیانہ دلائل کا جواب “تشکیکیت” اور “اخلاقی اعتراض” سے دیا۔ اس نے وجودِ باری تعالیٰ کے سوال کو رد کرنے کے لیے دنیا میں موجود برائی (Evil) کو دلیل بنایا۔ فلسفے میں یہ ایک معلوم اعتراض ہے، لیکن یہ خدا کے “وجود” کا انکار نہیں کرتا بلکہ خدا کی “صفات” پر سوال اٹھاتا ہے۔
جاوید اختر نے منطقی مغالطوں کا سہارا لیا، یعنی جب وہ دلیل کا جواب نہ دے سکا تو بات غزہ اور مظلومیت کی طرف موڑ دی۔ ملحدین کے پاس یہی اصل طریقہ ہوتا ہے، جب ان کے پاس فلسفیانہ اور سائنسی سوالات کا جواب نہیں ہوتا تو وہ بحث کا رخ جذبات اور اخلاقیات کی طرف موڑ دیتے ہیں۔ وہ جانتے ہیں کہ عوام “منطق” سے زیادہ “جذبات” سے متاثر ہوتی ہے۔ اس نے غزہ کے بچوں کی مثال دے کر سامعین کے اجتماعی لاشعور اور ہمدردی کے جذبے کو ابھارا۔ نفسیات میں اسے “Appeal to Emotion” کہتے ہیں۔
مفتی کا انداز خالص منطقی (Rational) رہا جو کہ ایک خشک طریقہ کار ہے۔ عام انسان کے لیے “خدا کا تصور” ایک جذباتی سہارا ہوتا ہے، نہ کہ ریاضیاتی مساوات۔ مفتی کی مثالیں اگرچہ درست تھیں مگر عوامی نفسیات کو اپیل کرنے کے لیے بہت روکھی تھیں۔ البتہ مفتی نے سوشیالوجی کا ایک اہم نقطہ اٹھایا کہ “Objective Morality” (معروضی اخلاقیات) خدا کے بغیر ممکن نہیں۔ اگر خدا نہیں تو “اچھائی اور برائی” کا فیصلہ صرف اکثریتی رائے (Social Contract) کرے گی، جو کہ خطرناک ہو سکتا ہے (جیسے نازی جرمنی میں ہوا)۔
جاوید اختر نے انتھروپولوجی کا غلط استعمال کیا کیونکہ وہ “مخصوص خداؤں” (Zeus, Apollo) کے مٹنے کو “تصورِ خدا” کے مٹنے سے جوڑ رہا تھا، جو کہ ایک بھونڈا اور غیر علمی طریقہ تھا۔ اس نے یہ فضول سی دلیل دی کہ ہزاروں خدا آئے اور چلے گئے، تو یہ خدا بھی چلا جائے گا۔ اس نے سائنس کی ترقی کو مذہب کے رد کے طور پر پیش کیا (جو کہ “سائنٹزم” ہے، سائنس نہیں)۔ سائنس “کیوں” (Why) کا جواب نہیں دیتی، صرف “کیسے” (How) کا جواب دیتی ہے۔ یہی سائنس کی محدودیت ہے۔ مفتی نے درست نشاندہی کی کہ سائنس کا دائرہ کار “مادی دنیا” ہے، اس لیے میٹافزیکل خدا کو سائنس سے ثابت یا رد نہیں کیا جا سکتا۔ اس کی “میٹل ڈیٹیکٹر سے پلاسٹک ڈھونڈنے” والی مثال سائنسی طریقہ کار کی حدود بتانے کے لیے بہترین تھی۔
جاوید اختر نے مناظرہ جیتنے کے لیے “بیان بازی” کا استعمال کیا۔ جب وہ منطقی طور پر پھنسا (جیسے Infinite Regress کے سوال پر)، تو اس نے فوراً جذباتی کارڈ کھیلا جیسے غزہ، بھوک، اور افلاس وغیرہ۔ قصہ مختصر یہ کہ یہ مقابلہ “منطق” اور “بیان بازی” کے درمیان تھا۔ منطق علمی میدان میں جیت گئی، لیکن بیان بازی کو عوامی پذیرائی ملی۔
والسلام