sacheey dil se tobaa ki thi, sari zindgi ghar walon ki khidmat ki. lakin qudraan ney kabi kowee mouqaa nhi janey diyaa zaleel kerny ka. Last 3 saal se din raat ap ki di howee tasbeeh ki lakin zara brabr b Allah ney madad nhi ki………………….. sb kuchh chhor diyaa ha ab. Na kowee tasbeeh naa hi ab Allah se madad mangon ga. Tum logon ka b beraagharq ho. Jhut boltey ho, yeah sb karobaar bnaa rakhaa ha
بھائی، ہم نے کب کہا تھا کہ جو تسبیح ہم لوگوں کو تجویز کرتے ہیں، اس کے پڑھنے سے ان کی خواہشات پوری ہوں گی؟ ہم خواہشات کی تکمیل کے لیے تسبیح تو ہرگز نہیں دیتے ہیں، نہ ہی ہم لوگوں کو جھوٹے لارے لپے لگاتے ہیں۔ ہماری تسبیح دینے کا مقصد خود کو اللہ کے ساتھ مربوط کرنا ہے اور اپنی خواہشات کو کنٹرول میں رکھنا ہے۔
جاننا چاہیے کہ خود غرض شخص اللہ کو دونوں صورتوں میں یاد کرنا چھوڑ دیتا ہے جب اس کی غرض پوری ہو جائے تب بھی وہ خدا کی یاد چھوڑ دیتا ہے اور جب غرض نہ پوری ہو تب بھی وہ خدا کی یاد چھوڑ دیتا ہے۔ ایسے لوگوں کے بارے میں خدا قرآن میں کہتا ہے:
وَمِنَ النَّاسِ مَن يَعْبُدُ اللَّهَ عَلَىٰ حَرْفٍ ۖ فَإِنْ أَصَابَهُ خَيْرٌ اطْمَأَنَّ بِهِ ۖ وَإِنْ أَصَابَتْهُ فِتْنَةٌ انقَلَبَ عَلَىٰ وَجْهِهِ خَسِرَ الدُّنْيَا وَالْآخِرَةَ ۚ ذَٰلِكَ هُوَ الْخُسْرَانُ الْمُبِينُ
“اور لوگوں میں کوئی ایسا ہے جو ایک کنارے پر رہ کر اللہ کی عبادت کرتا ہے۔ اگر اسے کوئی فائدہ پہنچ جائے تو وہ اس سے مطمئن ہو جاتا ہے، اور اگر اسے کوئی آزمائش پہنچے تو وہ منہ کے بل (کفر کی طرف) پلٹ جاتا ہے۔ اس نے دنیا بھی کھوئی اور آخرت بھی۔ یہی تو کھلا ہوا نقصان ہے۔”
(سورۃ الحج، آیت 11)
جو شخص یہ شکوہ کرتا ہے کہ ‘میں نے تو نیکی کی، پھر مجھ پر آزمائش کیوں آئی؟’، اسے سوچنا چاہیے کہ کیا ہمارا اللہ کے ساتھ کوئی تحریری معاہدہ ہوا ہے کہ ہم آزمائے نہیں جائیں گے؟ کیا اللہ نے ہم سے یہ وعدہ کیا ہے کہ ہمیں نیکی کا صلہ فوراً اور ہماری مرضی کے مطابق ملے گا؟ کیا (معاذ اللہ) اللہ نے ہم پر کوئی ایسی وحی نازل کی ہے جس میں ہمیں آزمائش سے استثنیٰ (Exemption) دیا گیا ہو؟ اللہ تو قران میں ہمیں اگاہ کرتا رہا ہے:
أَحَسِبَ النَّاسُ أَن يُتْرَكُوا أَن يَقُولُوا آمَنَّا وَهُمْ لَا يُفْتَنُونَ
کیا لوگوں نے یہ گمان کر رکھا ہے کہ وہ صرف یہ کہنے پر چھوڑ دیے جائیں گے کہ ہم ایمان لائے، اور ان کی آزمائش نہیں کی جائے گی؟
(سورۃ العنکبوت، آیت 2)
جو شخص یہ سمجھتا ہے کہ تسبیح پڑھ کر یا گھر والوں کی خدمت کر کے اس نے (معاذ اللہ) اللہ پر کوئی احسان کیا ہے، وہ شدید غلط فہمی میں ہے۔ اللہ تو ایسے لوگوں کو فرماتا ہے کہ ‘مجھ پر اپنے اعمال کا احسان مت دھرو۔ بلکہ یہ تو الٹا اللہ کا تم پر احسان ہے، ایسے احسان فراموش کے لیے خدا یوں فرماتا ہے:
يَمُنُّونَ عَلَيْكَ أَنْ أَسْلَمُوا ۖ قُل لَّا تَمُنُّوا عَلَيَّ إِسْلَامَكُم ۖ بَلِ اللَّهُ يَمُنُّ عَلَيْكُمْ أَنْ هَدَاكُمْ لِلْإِيمَانِ
یہ لوگ آپ پر احسان جتاتے ہیں کہ یہ مسلمان ہو گئے ہیں۔ کہہ دیجئے کہ اپنے اسلام کا مجھ پر احسان نہ جتاؤ، بلکہ اللہ تم پر احسان رکھتا ہے کہ اس نے تمہیں ایمان کی ہدایت دی۔
(سورۃ الحجرات، آیت 17)
دعا قبول نہ ہونے کا اعتراض وہی کرتا ہے جو دعا کے فلسفے، مقصد اور طریقہِ قبولیت سے جاہل ہو۔ ایسے شخص کو چاہیے کہ وہ دوسروں سے گلہ کرنے کی بجائے اپنی جہالت اور کم فہمی کا پر افسوس کرے، نہ تو وہ مانگنے کا سلیقہ جانتا ہے، اور نہ ہی اسے اس ‘دینے والے’ (اللہ) کی عطا اور حکمت کے انداز معلوم ہیں۔ ایسے شخص کے لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
مَا مِنْ مُسْلِمٍ يَدْعُو بِدَعْوَةٍ لَيْسَ فِيهَا إِثْمٌ، وَلَا قَطِيعَةُ رَحِمٍ، إِلَّا أَعْطَاهُ اللهُ بِهَا إِحْدَى ثَلَاثٍ: إِمَّا أَنْ تُعَجَّلَ لَهُ دَعْوَتُهُ، وَإِمَّا أَنْ يَدَّخِرَهَا لَهُ فِي الْآخِرَةِ، وَإِمَّا أَنْ يَصْرِفَ عَنْهُ مِنَ السُّوءِ مِثْلَهَا
ترجمہ:
“کوئی بھی مسلمان جب ایسی دعا کرتا ہے جس میں گناہ یا رشتہ توڑنے کی بات نہ ہو، تو اللہ تعالیٰ اسے تین چیزوں میں سے ایک ضرور عطا فرماتا ہے:
1. یا تو اس کی دعا فوراً قبول کر لی جاتی ہے (اور مانگی ہوئی چیز مل جاتی ہے)۔
2. یا اس دعا کو اس کی آخرت کے لیے ذخیرہ کر لیا جاتا ہے۔
3. یا اس جیسی کوئی برائی اور مصیبت اس سے ٹال دی جاتی ہے۔”
(مسند احمد: 11133، مشکوٰۃ المصابیح: 2259)
تسبیح ہماری نظر میں عبادت ہے، تجارت نہیں، ہم اللہ کا ذکر اس کی رضا کے لیے کرتے ہیں، نہ کہ دنیاوی خواہشات کی تکمیل کے لیے۔ جو لوگ اس نیت سے تسبیح پکڑتے ہیں اور دوسروں سے لیتے ہیں کہ بدلے میں دنیا ملے گی، وہ اللہ سے بندگی نہیں بلکہ سودا کر رہے ہیں۔ اور جو لوگ ایسی نیت سے تسبیح بانٹتے ہیں، وہ رہنما نہیں بلکہ بیوپاری ہیں۔ الحمدللہ ہم اس روش سے پاک ہیں۔ ہم جسے بھی تسبیح دیتے ہیں، اسے ساتھ تفصیلی ہدایات بھی دیتے ہیں تاکہ وہ جان لے کہ یہ عمل خالص اللہ کے لیے ہے، کسی لالچ کے لیے نہیں۔
خرد کا نام جنوں پڑ گیا، جنوں کا خرد
جو چاہے آپ کا حُسنِ کرشمہ ساز کرے
حسرتؔ موہانی
والسلام