Blog

(تاریخ حدیث( حصہ سوئم

ڈاکٹر حمید اللہ

اب میں ایک اور خاص پہلو کی طرف رجوع کرتا ہوں۔ وہ یہ ہے کہ صحابہ کرام رضی اللہ تعالیٰ عنہم نے جب حدیثوں کو اس طرح لکھ کر مدون کرنا شروع کیا اور اس کی تعلیم اپنے زمانے کے نوجوان مسلمانوں کو دینے لگے تو ابتداءً صحابہ کے ناموں کے تحت حدیثیں مدون ہوئیں۔ مثلاً میں اپنے شہر میں حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ صحابی کے پاس جاکر سبق لیتا ہوں اور ان سے سنی ہوئ حدیثوں کو جمع کرتا ہوں۔ دوسرے شہر میں رہنے والے صحابہ سے مجھے استفادہ کا موقع نہیں ملتا۔ نتیجہ یہ ہوا کہ ابتداءً صحابہ وار حدیثیں جمع ہوتی رہیں۔ صحابہ کے بعد کے دور میں ایک شخص کئ استادوں سے سے درس لیتا ہے۔ مثلاً وہ ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے شاگرد سے درس لینے اور ان کی روایت کردہ ساری حدیثوں کو قلم بند کرنے کے بعد ایک دوسرے صحابی کے شاگرد کے پاس جاتا ہے اور ان سے ان کی حدیثیں سنتا ہے۔ اس طرح رفتہ رفتہ دو تین نسلوں کے بعد ساری حدیثیں علماء کے علم میں آگئیں۔ ایک اور چیز کا ذکر کرتا چلوں جو حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے متعلق ہے اور ان کا قصہ بہت دلچسپ ہے۔ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ ایسے صحابی ہیں جو دیر سے مسلمان ہوئے یعنی سنہ ٧ ہجری میں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات سے تین چار سال پہلے اسلام لائے۔ اس کے باوجود ان سے بے شمار حدیثیں مروی ہیں۔ اس کی وجہ وہ خود بیان کرتے ہیں کہ “دیگر صحابہ مثلاً ابوبکر، عمر، عثمان رضی اللہ تعالیٰ عنہم اور فلاں فلاں صحابی سارا دن اپنے کاروبار میں لگے رہتے، اپنی تجارت اور اپنی دکان میں مصروف رہتے۔ میں پیٹ بھرا بن کر مسجد نبوی کے اندر پڑا رہتا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی باتوں کو سننے کا جتنا موقع مجھے ملتا، اتنا بڑے بڑے صحابہ کو بھی نہ ملتا، ان کا حافظہ بھی بڑا اچھا تھا، علمی ذوق بھی تھا، لکھنا بھی آتا تھا۔ انہوں نے بہت سی حدیثیں لکھیں۔ چنانچہ ان کے ایک شاگرد حسن بن عمرو بن امیہ ضمری نے ایک دن غالباً حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی پیرانہ سالی کے زمانے میں، اپنے استاد سے کہا کہ “استاد، آپ نے فلاں چیز بیان کی تھی” انہیں یاد نہیں تھا مکر گئے۔ نہیں صاحب میں نے کبھی یہ نہیں کہا ایسی کوئ حدیث مجھے بالکل یاد نہیں۔ نہیں استاد، آپ نے ہی ہم سے یہ چیز بیان کی ہے۔ اس پر ان کا بیان ہے کہ استاد نے میرا ہاتھ پکڑا، اپنے گھر کی طرف چل دیے اور راستے میں یہ کہتے چلے کہ اگر واقعی میں نے وہ حدیث تم سے بیان کی ہے تو وہ میرے پاس تحریری صورت میں موجود ہونی چاہیے۔ چنانہ گھر لائے، اپنی الماری سے ایک جلد نکالی ورق گردانی کی مگر نہیں ملی پھر دوسری جلد اور پھر تیسری جلد میں نظر دوڑائ۔ پھر اس کے بعد یک بہ یک خوشی کی حالت میں پکار اٹھے کیا میں نے تم سے نہیں کہا تھا کہ اگر میں نے بیان کیا ہے تو وہ میرے ہاں تحریری صورت میں موجود ہونا چاہیے۔ دیکھو یہ موجود ہے۔ ٹھیک ہے۔ ابن حجر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی روایت کے مزید برآں الفاظ یہ ہیں: “ارانا کتبا کثیرۃ من الحدیث” (ہمیں ابو ہریرہ نے حدیث کی بہت سی کتابیں دکھائیں) یعنی میں نے ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی بہت سے کتابیں ان کے گھر کے کتب خانے میں دیکھیں۔ ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا طرز عمل عالمانہ اور بہت دلچسپ تھا۔ ان کے پاس جو شاگرد آتے، سارے شاگردوں کو وہ ایک ہی چیز نہیں پڑھاتے تھے۔ ہر شاگرد کو الگ الگ حدیثیں پڑھاتے تھے۔ چنانچہ جب ہمام بن منبہ ان کے پاس آتے ہیں تو ان کو ایک خصوصی رسالہ سو ڈیڑھ سو حدیثوں کا مرتب کرکے دیتے ہیں۔ جو “صحیفہ ہمام بن منبہ” کہلاتا ہے۔ ایک دوسرا شاگر آتا ہے، اس کے لیے ایک نیا مجموعہ تیار کرتے ہیں جو اس شاگرد کے نام سے منسوب ہوا۔ غرض حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے متعلق ہمیں یہ پتہ چلتا ہے کہ ہزاروں حدیثیں انہیں حفظ تھیں اور اپنے متعد شاگردوں کو انہوں نے جو رسالے لکھ دیے تھے وہ آج تک محفوظ چلے آرہے ہیں۔

بعض حدیثوں میں ذکر ملتا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا حکم ہے کہ حدیث کو مت لکھو اور بعض حدیثوں میں جن کا میں نے ابھی ذکر کیا، صراحت کے ساتھ حکم ہے کہ اپنے دائیں ہاتھ سے مدد لو یعنی انہیں ضرور لکھو کیونکہ اس منہ سے کوئ چیز جھوٹی نہیں نکل سکتی۔ ان باتوں کے تضاد کو کیسے دور کریں گے؟ اس بارے میں اب ہمارے لیے کوئ دشواری باقی نہیں رہی۔ مختصر قصہ یہ ہے کہ ایسے متعدد صحابہ ملتے ہیں جن کا بیان ہے کہ حدیث کو نہیں لکھنا چاہیے۔ لیکن وہ اس امر کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف منسوب نہیں کرتے کہ رسول اللہ نے کہا کہ حدیث کو مت لکھو۔ جو صحابی اپنی رائے بیان کرتے ہیں اس پر ہمیں بحث کرنے کی ضرورت نہیں لیکن جو صحابہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں یہ حکم دیا کہ نہ لکھیں، اس پر ہمیں غور کرنے کی ضرورت ہے۔ ان میں تین صحابی ملتے ہیں، ایک حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ، خود انہوں نے حدیث کی کثیر کتابیں لکھ رکھی تھیں، دوسرے حضرت زید بن ثابت رضی اللہ تعالیٰ عنہ ہیں اور تیسرے ابو سعید الخذری رضی اللہ تعالیٰ عنہ۔ جہاں تک زید بن ثابت رضی اللہ تعالیٰ عنہ اور حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی روایت کا تعلق ہے ہمارے ماہرین حدیث اس کو رد کردیتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ درمیان کے راوی ثقہ نہیں ہیں۔ انہوں نے غلطی کی ہے۔ علم حدیث کے اصول کی رو سے یہ حدیثیں قابل قبول نہیں ہیں۔ صرف ابو سعید الخذری رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی حدیث اصول کی رو سے بہت اہم ہے کیونکہ “صحیح مسلم” جیسی حدیث کی صحیح کتاب میں یہ موجود ہے۔ اس کے الفاظ یہ ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہم سے کہا کہ مجھ سے کوئ حدیث نہ لکھو اور اگر لکھ چکے ہوتو اسے مٹاڈالو۔ اس حدیث کی موجودگی میں سوال پیدا ہوتا ہے کہ یہ کسی سیاق و سباق context میں خاص حکم سے متعلق تھا یا کوئ عام حکم تھا؟ ہمارے دوست، مصطفیٰ الاعظمی حدیث کے ایک ماہر استاد، جو آج کل ریاض یونیورسٹی میں پروفیسر ہیں، انہوں نے ایک دلچسپ تحقیق کی ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ “صحیح مسلم” میں جو حدیث آئ ہے امام بخاری رح اسے رد کردیتے ہیں۔ امام بخاری کہتے ہیں کہ یہ غلط فہمی پر مبنی ہے۔ حقیقت میں یہ ابو سعید الخذری رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی ذاتی رائے تھی جو کسی درمیانی راوی کی وجہ سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف منسوب ہوگئ ہے۔ ان حالات میں ہم دیکھتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ حکم کہ حدیثیں نہ لکھو، اس کا اصول حدیث کی رو سے کوئ ثبوت نہیں۔ اگر فرض بھی کرلیں کہ کسی وقت حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے ممانعت فرمائ تھی تو اس کا حل آسان ہے غالباً کسی خاص سیاق و سباق context میں یہ حکم صادر ہوا تھا کہ کیونکہ ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی مثال موجود ہے۔ وہ نہایت ہی دین دار اور حدیث پر عامل شخص تھے۔ اگر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے واقعی ممانعت کی ہوتی تو وہ کبھی جسارت نہ کرتے کہ حدیث کی بہت سی کتابیں خود لکھ ڈالیں۔ ممکن ہے کس وجہ سے منع کیا گیا ہو اور اس واقعہ کے مطابق اسے نہ لکھا گیا ہو۔ مثلاً ایک معین دن کی حدیثوں کو نہ لکھا اور بعد میں عام اجازت کے تحت لکھ ڈالا۔ غرض کوئ خاص سیاق و سباق ہوگا۔ مثلاً کسی دن حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے جیسا کہ حدیث میں اس کا ذکر آتا ہے، قیامت تک پیش آنے والے واقعات کو مسلمانوں سے بیان فرمایا کہ تم فلاں ملک فتح کرو گے، ایسے علاقوں میں جاؤ گے، ایسے ایسے امور پیش آئیں گے۔ غرض کبھی قیامت تک پیش آنے والی باتوں کو حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے بیان فرمایا۔ اس سلسلے میں یہ بیان بھی موجود ہے کہ بعض صحابہ نے کہا کہ یا رسول اللہ جب یہ مقدر ہیں تو پھر ہمیں کوشش کرنے کی کیا ضرورت ہے؟ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کوشش کرنا بھی مقدر ہے، ایسا کرنا پڑے گا۔ ممکن ہے اس دن حضور نے فرمایا ہوکہ ان باتوں کو مت لکھو کیونکہ بعض صحابہ اس غلط فہمی میں مبتلا ہوکر یہ کہہ دیتے تھے کہ جب مقدر ہوچکا ہے تو کوشش کرنے کی کیا ضرورت؟ یا کوئ اور وجہ ہوئ ہوگی۔ حضرت زید بن ثابت رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی طرف بھی بعض کتابیں منسوب ہوئیں۔

ایک آخری نکتہ ہے جس پر میں اس تقریر کو ختم کرتا ہوں، وہ یہ کہ ایک سوال پیدا ہوتا ہے کہ حضرت ابوبکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ، حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ، حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ جیسے مقرب ترین صحابہ نے حدیث کے متعلق کیا کام کیا؟ حضرت ابو بکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے متعلق یہ روایت ملتی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے بعد، انہوں نے اپنی بقیہ مختصر زندگی کے دو ڈھائ سال کے عرصے میں حدیث کا ایک مجموعہ تیار کیا۔ جس میں پانچ سو حدیثیں تھیں۔ لکھنے کے بعد ان کو وہ اپنی بیٹی حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کے سپرد کرتے ہیں۔ میرا گمان یہ ہے کہ شاید بیٹی ہی نے فرمائش کی ہو کہ “ابا جان مجھے کچھ حدیثیں کتابی صورت میں لکھ دیجئے” کیونکہ حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کو علم کا بے پناہ ذوق و شوق تھا۔ بیٹی کی تمنا پر حدیثیں مرتب کیں اور انہیں دے دیں۔ مگر اس رات کو وہ حضرت عائشہ ہی کے مکان میں لیٹے اور سو نہ سکے۔ حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کہتی ہیں کہ میرے اباجان ساری رات کروٹیں بدلتے رہے، مجھے ذرا خوف ہوا کہ وہ بیمار ہیں۔ صبح کو بھی میں نے جسارت نہیں کی کہ خود پوچھوں کہ کیا آپ بیمار ہیں۔ خود ابوبکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا کہ “بیٹی! میں نے تمہیں جو کتاب دی ہے وہ لے آنا۔ میں لائ تو اسے فوراً پانی سے دھوکر مٹادیا اور کہا “اس میں بعض حدیثیں وہ ہیں جو میں نے خود سنی ہیں”۔ ان کے متعلق مجھے یقین ہے۔ بعض کو میں نے کسی اور صحابی سے سنا تھا۔ مجھے جھجھک اور خوف ہے کہ شاید وہ الفاظ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے نہ ہوں۔ میں نہیں چاہتا کہ رسول اللہ کی طرف کوئ ایسا لفظ منسوب کروں جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا نہ ہو اور کسی بالمعنی روایت کے تحت آیا ہو۔ مگر اس حدیث کا یہ پہلو بہت اہم ہے کہ اگر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حدیث لکھنے کی ممانعت کی ہوتی تو یقیناً حضرت ابو بکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ اس سے واقف ہوتے اور وہ لکھنے کی جسارت نہ کرتے۔ لکھنے کے بعد آپ کا مٹانا اس بناء پر نہیں تھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ممانعت کی تھی بلکہ اس بناء پر تھا کہ انہیں خوف تھا کہ کہیں صحیح حدیث میں کمی بیشی نہ ہوجائے۔

حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے متعلق بھی ایسی ایک روایت ملتی ہے۔ ایک زمانے میں انہوں نے حدیث کو مدون کرنے کی کوشش فرمائ تھی۔ انہوں نے لوگوں کو جمع کرکے مشورہ کیا۔ سب کا مشورہ یہی تھا کہ “لکھنا چاہیے” مگر کافی عرصہ بحث مباحثہ اور مشورہ کے بعد حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا کہ نہیں لکھنا چاہیے۔ اور کہا کہ ہم سے پہلے کی امتوں نے انبیاء کے اقوال پر عمل کیا، ان کو محفوظ رکھا لیکن خدا کی نازل کردہ کتاب کو بھول گئے۔ اس کی تحریفیں ہونے لگی۔ میں نہیں چاہتا کہ قرآن کے متعلق بھی یہ سانحہ پیش آئے۔ اس طرح حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے حدیث کی تدوین کا جو ارادہ فرمایا تھا، اس سے یہ یقینی طور پر ثابت ہوجاتا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے کوئ ممانعت نہیں ہوئ ورنہ وہ لکھنے کا ارادہ نہ کرتے۔ حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے نہ لکھنے کی وجہ ایک دوسری ہی تھی کہ لوگ قرآن سے غافل نہ ہوجائیں۔

حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اپنی خلافت کے زمانے میں ایک دن فرمایا: “جسے ایک درہم خرچ کرنے کی توفیق ہے وہ کاغذ خرید لائے، میں حدیثیں لکھواتا ہوں، لکھ لے، ان کے ساتھیوں میں سے ایک صاحب بازار جاکر ایک درہم میں کاغذ کی ایک گڈی خرید لائے۔ حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے بہت سی چیزیں لکھوائیں اور وہ ان کے پاس محفوظ رہیں۔ اس قصے سے بھی ثابت ہوتا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حدیث لکھنے کی ممانعت نہیں کہ ورنہ حضرت ابوبکر، حضرت عمر، حضرت علی رضی اللہ تالیٰ عنہم جیسے اصحاب کباار حدیث لکھنے یا لکھوانے کی جسارت نہیں کرسکتے تھے۔

Related Articles

Check Also
Close
Back to top button