بدگمانی، حسد اور بدشگونی

اس حدیث کا پورا ورژن دوسری جگہ پر یوں ہے کہ ​رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:

​«ثَلَاثٌ لَازِمَةٌ لِأُمَّتِي: سُوءُ الظَّنِّ، وَالْحَسَدُ، وَالطِّيَرَةُ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، فَمَا الْمَخْرَجُ مِنْ ذَلِكَ لِمَنْ فَعَلَهُ؟ قَالَ: ” إِذَا ظَنَنْتَ فَلَا تُحَقِّقْ، وَإِذَا حَسَدْتَ فَلَا تَبْغِ، وَإِذَا تَطَيَّرْتَ فَامْضِ… وَإِذَا وَزَنْتُمْ فَأَرْجِحُوا»
”میری امت تین چیزوں سے نہیں بچ سکے گی: بدگمانی، حسد اور بدشگونی۔“ عرض کیا گیا: ”یا رسول اللہ! اگر کسی میں یہ چیزیں ہوں تو اس سے بچنے کا راستہ کیا ہے؟“ آپ ﷺ نے فرمایا:
​”جب تم گمان (شک) کرو تو اس کا یقین نہ کر لیا کرو (تحقیق نہ کرنے لگ جاؤ)۔“
​”جب تم حسد کرو تو ظلم نہ کرو (یعنی حسد کو دل تک رکھو، ہاتھ یا زبان سے نقصان نہ پہنچاؤ)۔“
​”جب تم بدشگونی لو تو (رکو مت) اپنے کام کو جاری رکھو (اور اللہ پر بھروسہ کرو)۔“
​”اور جب تم وزن کرو تو جھکا دیا کرو (یعنی تول میں خریدار کو زیادہ دیا کرو)۔“

​(حوالہ: السلسلۃ الصحیحۃ: 3942، المعجم الکبیر للطبرانی، سنن ابن ماجہ: 2224)

​حدیث کا پہلا حصہ ہمیں سکھاتا ہے کہ اگر دل میں کسی کے بارے میں برا خیال آ جائے تو اسے حقیقت نہ سمجھو اور نہ ہی اس کی بنیاد پر جاسوسی کرو۔ بدگمانی معاشرتی تعلقات کو دیمک کی طرح چاٹ جاتی ہے۔اللہ تعالیٰ نے سورۃ الحجرات میں بدگمانی سے بچنے کا واضح حکم دیا ہے۔

​﴿يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اجْتَنِبُوا كَثِيرًا مِّنَ الظَّنِّ إِنَّ بَعْضَ الظَّنِّ إِثْمٌ ۖ وَلَا تَجَسَّسُوا﴾
​”اے ایمان والو! بہت زیادہ گمان کرنے سے بچو، بیشک بعض گمان گناہ ہوتے ہیں، اور (کسی کے عیبوں کی) ٹوہ (جاسوسی) میں نہ لگو۔“

(سورۃ الحجرات: 12)

​حدیث کا دوسرا حصہ ہمیں سکھاتا ہے کہ اگر دل میں کسی کی نعمت دیکھ کر جلن ہو تو اسے عمل میں مت لاؤ، نہ زبان سے اس کی برائی کرو اور نہ ہاتھ سے اسے نقصان پہنچاؤ۔ رسول اللہﷺ کا فرمان ہے:

​«إِيَّاكُمْ وَالْحَسَدَ، فَإِنَّ الْحَسَدَ يَأْكُلُ الْحَسَنَاتِ كَمَا تَأْكُلُ النَّارُ الْحَطَبَ»
​”حسد سے بچو، کیونکہ حسد نیکیوں کو اس طرح کھا جاتا ہے جیسے آگ لکڑی کو کھا جاتی ہے۔“

(سنن ابی داؤد: 4903)

​حدیث کا تیسرا حصہ ہمیں سکھاتا ہے کہ ​زمانۂ جاہلیت میں لوگ پرندوں کے اڑنے یا کسی جانور کو دیکھ کر کام روک دیتے تھے (بدشگونی لیتے تھے)۔ اسلام نے اسے شرکِ اصغر قرار دیا اور حکم دیا کہ اگر وہم آئے تو اللہ پر بھروسہ کر کے کام جاری رکھو۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:

​«الطِّيَرَةُ شِرْكٌ، الطِّيَرَةُ شِرْكٌ»
​”بدشگونی لینا شرک ہے، بدشگونی لینا شرک ہے۔“

(سنن ابی داؤد: 3910)

​حدیث کا آخری حصہ کاروباری اخلاقیات کے بارے میں ہے۔ “وزن جھکا کر تولنا” سے مراد ہے کہ خریدار کو حق سے تھوڑا زیادہ دینا۔ یہ برکت کا باعث اور اللہ کی خوشنودی کا ذریعہ ہے۔نبی کریم ﷺ نے اس تاجر کے لیے دعا فرمائی جو لین دین میں نرمی کرتا ہے۔

​«رَحِمَ اللَّهُ رَجُلًا سَمْحًا إِذَا بَاعَ، وَإِذَا اشْتَرَى»
​”اللہ اس شخص پر رحم کرے جو بیچتے وقت اور خریدتے وقت نرمی (سخاوت) کرے۔“

(صحیح بخاری: 2076)

والسلام