AoA Junaid bhai.
This is Sahih Bukhari Hadith. Jis ki base pe Atheist etraaz krtay hain Quran ki haqqaniyyat pe. Which shows Prophet (SAW) also forgot few verses of Quran (Maaz Allah).
Plzzz share your point of view
اگر ملحدین کے اعتراضات کے مدلل جواب دینے ہیں تو دو شخصیات کا مطالعہ کرنا بہت ضروری ہے: ایک ڈاکٹر محمد حمید اللہ اور دوسرے ڈاکٹر غلام جیلانی برق۔ یہ وہ شخصیات ہیں جنہوں نے ‘الحاد’ (Atheism) اور اشراق (Orientalism) کے موضوع پر بڑی تفصیل سے کام کیا ہے۔ لیکن بدقسمتی سے پاکستان اور ہندوستان کے عمومی مذہبی حلقوں میں ان دو شخصیات کو بہت کم جانا جاتا ہے اور ان کے تحقیقی کام پر اتنی توجہ نہیں دی گئی جتنی دی جانی چاہیے تھی۔
اب آتے ہیں ملحدین کے اس اعتراض کی طرف جو آپ نے بیان کیا، اصل میں صحیح بخاری کی یہ حدیث قرآن کی حقانیت پر اعتراض نہیں بلکہ قرآن کے محفوظ ہونے کا تاریخی ثبوت ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک شخص کو مسجد میں قرآن پڑھتے ہوئے سنا تو فرمایا:
يَرْحَمُهُ اللَّهُ، لَقَدْ أَذْكَرَنِي كَذَا وَكَذَا آيَةً، أَسْقَطْتُهُنَّ مِنْ سُورَةِ كَذَا وَكَذَا ”.
“اللہ اس پر رحم کرے! بلاشبہ اس نے مجھے فلاں فلاں آیات یاد دلا دیں، جو میں فلاں فلاں آیت مجھ سے چھوٹ گئی تھیں۔”
صحیح بخاری (حدیث نمبر: 5038)
بعض روایات میں “أَسْقَطْتُهُنَّ” (میں نے انہیں ساقط کر دیا تھا / چھوڑ دیا تھا) کے الفاظ ہیں اور بعض میں “أُنْسِيتُهَا” (میں انہیں بھلا دیا گیا تھا) کے الفاظ بھی ملتے ہیں۔ اس کے معنی یہاں چھوٹ جانے یعنی skip ہو جانے کے ہے، نہ کے نسیان یعنی Amnesia تھا۔
ملحدین کی غلط فہمی کی بنیادی وجہ عربی زبان اور اس کے قواعد سے ناواقفیت ہے۔ انہوں نے نہ اصل عربی متن پڑھا ہوتا ہے اور نہ وہ اس کے اسلوب سے آگاہ ہوتے ہیں، بلکہ صرف تراجم کے سہارے اسلام اور حدیث کے خلاف فتویٰ سازی شروع کر دیتے ہیں۔ اصولِ حدیث کا تقاضا ہے کہ کسی ایک روایت پر حکم لگانے سے قبل اس کے تمام ‘طرق’ (Variants) کو جمع کیا جائے۔ یہ دیکھنا ازحد ضروری ہے کہ مختلف راویوں نے ایک ہی واقعے کی منظر کشی کے لیے کن مخصوص الفاظ کا انتخاب کیا ہے۔ محض ایک حدیث کو پڑھ کر حتمی رائے قائم نہیں کی جا سکتی جب تک کہ اس واقعے سے متعلق تمام روایات کا تقابلی جائزہ نہ لے لیا جائے۔
محدثین (جیسے امام نوویؒ اور ابن حجرؒ) کے مطابق یہاں بھولنے سے مراد وہ عارضی بھول (Temporary Lapse) ہے جو بشریت کا تقاضا ہے، نہ کہ ایسا بھولنا جس سے وہ آیت ہمیشہ کے لیے ضائع ہو گئی ہو۔ اللہ تعالیٰ نے رسول اللہ ﷺ کی بشریت اور حفاظتِ قرآن کے حوالے سے پہلے ہی اصول طے کر دیے تھے، جیسا کہ فرمایا:
سَنُقْرِئُكَ فَلَا تَنْسَىٰ . إِلَّا مَا شَاءَ اللَّهُ
“ہم آپ کو پڑھا دیں گے پھر آپ نہیں بھولیں گے۔ مگر جو اللہ چاہے۔”
(سورۃ الاعلیٰ: 6-7)
اس آیت میں اللہ نے “فَلَا تَنْسَىٰ” (پس آپ نہیں بھولیں گے) کہہ کر یہ ضمانت دی کہ قرآن آپ کے سینے میں محفوظ رہے گا۔ ساتھ ہی “إِلَّا مَا شَاءَ اللَّهُ” (مگر جو اللہ چاہے) کہہ کر یہ اختیار اپنے پاس رکھا کہ اگر بشری تقاضے کے تحت کبھی عارضی بھول چوک ہو بھی جائے، تو وہ اللہ کی مشیت اور حکمت کے تحت ہوگی، نہ کہ نبی کی کمزوری۔بعض علماء کے نزدیک کچھ آیات کا ذہن سے نکل جانا اللہ کی طرف سے “نسخ” (منسوخ کرنے) کی ایک صورت تھی، جیسا کہ سورۃ البقرہ (آیت 106) میں اشارہ ہے:
مَا نَنسَخْ مِنْ آيَةٍ أَوْ نُنسِهَا نَأْتِ بِخَيْرٍ مِّنْهَا أَوْ مِثْلِهَا ۗ أَلَمْ تَعْلَمْ أَنَّ اللَّهَ عَلَىٰ كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ
”ہم کوئی آیت منسوخ نہیں کرتے یا اسے (لوگوں کو) نہیں بھلاتے مگر یہ کہ اس سے بہتر یا اس جیسی (دوسری آیت) لے آتے ہیں۔ کیا تمہیں معلوم نہیں کہ اللہ ہر چیز پر قدرت رکھنے والا ہے؟”
اس آیت میں لفظ “نُنسِهَا” (ہم اسے بھلا دیتے ہیں) استعمال ہوا ہے۔ یہ اس بات کا ثبوت ہے کہ اگر نبی کریم ﷺ کے ذہن مبارک سے کوئی آیت نکالی گئی یا بھلائی گئی، تو یہ اللہ کا فعل تھا جو کسی خاص حکمت یا حکم کو تبدیل کرنے کے لیے تھا، یہ نبی ﷺ کا ذاتی سہو (Error) یا حافظے کی خرابی نہیں تھی۔
ڈاکٹر حمید اللہ، جو کہ بین الاقوامی قانون اور تاریخ اسلام کے مستند محقق ہیں، انہوں نے مستشرقین کو بہت ٹھوس جوابات دیے ہیں۔ ان کی تحقیقات کا خلاصہ یہ ہے:
1. ڈاکٹر صاحب دلیل دیتے ہیں کہ اگر قرآن صرف حافظے پر منحصر ہوتا تو یہ اعتراض جاندار ہوتا۔ لیکن رسول اللہ ﷺ نے نزول کے فوراً بعد وحی کو لکھوانے (کتابت) کا انتظام کیا۔ اگر آپ ﷺ وقتی طور پر کچھ بھول بھی گئے، تو “لکھا ہوا نسخہ” موجود تھا۔ یہ “ڈبل چیک سسٹم” (Memory + Writing) تھا جس نے غلطی کے امکان کو ختم کیا۔
2. ڈاکٹر حمید اللہ ایک نفسیاتی نکتہ اٹھاتے ہیں: اگر (نعوذ باللہ) نبی کریم ﷺ نے قرآن خود گھڑا ہوتا، تو وہ کبھی اپنی بھول کا اعتراف نہ کرتے تاکہ اپنی “سپر نیچرل” حیثیت برقرار رکھیں۔ آپ ﷺ کا یہ فرمانا کہ “میں بھول گیا تھا” دراصل آپ کی دیانت اور سچائی کی سب سے بڑی دلیل ہے۔ یہ ثابت کرتا ہے کہ آپ ﷺ اپنی طرف سے کچھ نہیں کہہ رہے تھے بلکہ امانت میں خیانت نہ کرنے والے امین تھے۔
3. رسول اللہ ﷺ نے شروع میں سختی سے منع کیا تھا کہ قرآن کے علاوہ مجھ سے کچھ نہ لکھا جائے (تاکہ حدیث اور قرآن مکس نہ ہو جائیں)۔ اگر قرآن (نعوذ باللہ) نبی کا اپنا کلام ہوتا تو وہ اپنے اقوال اور قرآن میں اتنا سخت فرق کیوں رکھتے؟ یہ فرق ثابت کرتا ہے کہ آپ ﷺ ایک امانت دار تھے جو ‘اللہ کے کلام’ اور ‘اپنے کلام’ کو الگ الگ رکھتے تھے، چاہے وہ حالتِ جذب میں ہوں یا عام حالت میں۔”
ڈاکٹر غلام جیلانی برق نے پہلے “دو قرآن” لکھ کر حدیث کا انکار کیا تھا، لیکن بعد میں حدیث پر تحقیق کے بعد انہوں نے کم علمی کا اعتراف کیا اور اپنی تصحیح کی اور “تاریخِ حدیث” لکھ کر حدیث کی حجیت کو ثابت کیا۔ ان کے دلائل اس اعتراض کے حوالے سے بہت اہم ہیں:
1. ڈاکٹر برق کے مطابق، رسول اللہ ﷺ کا انسان ہونا اور بشری تقاضوں (جیسے بھولنا، زخمی ہونا، بھوک لگنا) سے گزرنا ضروری تھا تاکہ وہ انسانوں کے لیے نمونہ بن سکیں۔ اگر وہ فرشتہ صفت ہوتے جو کبھی نہیں بھولتا، تو انسان کہتے کہ ہم ان کی پیروی نہیں کر سکتے۔
2. جب آپ ﷺ نے فرمایا کہ “اس صحابی نے مجھے یاد دلا دیا”، تو یہ اس بات کا ثبوت ہے کہ قرآن صرف نبی کے سینے میں قید نہیں تھا، بلکہ صحابہ کے سینوں میں بھی منتقل ہو چکا تھا۔ یہ حدیث دراصل قرآن کی حفاظت کی دلیل ہے کہ اگر (بالفرض) نبی سے سہو ہو جائے تو پوری امت (صحابہ) موجود ہے جو تصحیح کر دے۔ یہ اللہ کا وہ وعدہ ہے “إِنَّا لَحْنُ نَزَّلْنَا الذِّكْرَ وَإِنَّا لَهُ لَحَافِظُونَ” (ہم نے ہی اسے نازل کیا اور ہم ہی اس کی حفاظت کریں گے)۔ اللہ نے حفاظت کا کام نبی کے حافظے اور امت کے حافظے، دونوں سے لیا۔
والسلام