اپنی بیوی سے نالاں رہتا ہے لیکن اسے چھوڑتا بھی نہیں

السلام علیکم جنید بھائی
امید ہے آپ خیریت سے ہوں گے۔ مجھے اس معاملے میں آپ کی تھوڑی سی رہنمائی چاہیے۔ میری نظر سے ڈاکٹر اسرار صاحب کا ایک کلپ گزرا ہے۔ میرے پاس اس سے متعلق کوئی حدیث کا حوالہ نہیں ہے اور نہ ہی مجھے ایسی کوئی حدیث پہلے نظر سے گزری ہے، اس لیے میں چاہتا ہوں کہ آپ اس بارے میں میری رہنمائی فرمائیں۔

اس کلپ میں ڈاکٹر اسرار صاحب نے تین قسم کے لوگوں کا ذکر کیا ہے جن کی دعا اللہ کے ہاں قبول نہیں ہوتی۔ ان میں سب سے پہلے اس شخص کا ذکر ہے جو اپنی بیوی سے نالاں رہتا ہے لیکن اسے چھوڑتا بھی نہیں۔ تو میں یہ جاننا چاہتا ہوں کہ کیا یہ کوئی باقاعدہ شرعی حکم ہے یا یہ ڈاکٹر صاحب کی اپنی ذاتی رائے ہے؟

یہ حدیث صحیح ہے۔

ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:

ثَلَاثَةٌ يَدْعُونَ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ فَلَا يُسْتَجَابُ لَهُمْ:رَجُلٌ كَانَتْ لَهُ امْرَأَةٌ سَيِّئَةُ الْخُلُقِ فَلَمْ يُطَلِّقْهَا،وَرَجُلٌ كَانَ لَهُ عَلَى رَجُلٍ دَيْنٌ فَلَمْ يُشْهِدْ عَلَيْهِ،وَرَجُلٌ آتَى مَالَهُ سَفِيهًا وَقَدْ قَالَ اللَّهُ تَعَالَى:وَلَا تُؤْتُوا السُّفَهَاءَ أَمْوَالَكُمْ
تین قسم کے لوگ ایسے ہیں جو اللہ کو پکارتے ہیں مگر ان کی دعا قبول نہیں ہوتی۔ایک وہ شخص جس کی بیوی بداخلاق ہو اور وہ اسے طلاق نہ دے۔دوسرا وہ شخص جس پر کسی کا قرض ہو مگر اس نے قرض لکھوانے کے لیے گواہ نہ بنائے۔تیسرا وہ شخص جو اپنا مال کسی ناسمجھ کے حوالے کر دے، حالانکہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ ناسمجھ لوگوں کو اپنا مال نہ دو۔

تخریج:
رواہ الحاکم فی المستدرک (٢/٣٠٢) وقال صحیح الإسناد، ووافقہ الذہبی، وأخرجہ الطحاوی فی مشکل الآثار (٢٥٣٠)، وابن أبی شیبۃ فی المصنف (١٧٤٢٩)، السلسلۃ الصحیحۃ للألبانی: 1805، صحیح الجامع: 3074۔

​اب اصل مسئلہ اس حدیث کی تشریح اور فہم کا ہے۔ بظاہر ایسا لگتا ہے کہ اسلام شاید طلاق کی ترغیب دے رہا ہے، حالانکہ ایسا ہرگز نہیں ہے۔ علماء کرام اور محدثین نے اس حدیث کی شرح یوں بیان کی ہے کہ یہاں دعا قبول نہ ہونے سے مراد یہ ہے کہ انسان ایک تکلیف میں مبتلا ہے اور اللہ نے اس تکلیف سے نکلنے کا ایک شرعی راستہ (طلاق) اس کے ہاتھ میں دیا ہے، لیکن وہ اس راستے کو اختیار نہیں کرتا اور محض ہاتھ اٹھا کر اللہ سے اس عورت کے شر سے نجات کی دعا مانگتا رہتا ہے۔

​ایک حدیث میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے نیک عورت کو خوش بختی اور بری عورت کو بدبختی قرار دیا ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے:

فَمِنَ السَّعَادَةِ: الْمَرْأَةُ الصَّالِحَةُ تَرَاهَا فَتُعْجِبُكَ، وَتَغِيبُ عَنْهَا فَتَأْمَنُهَا عَلَى نَفْسِهَا وَمَالِكَ، وَمِنَ الشَّقَاوَةِ: الْمَرْأَةُ الَّتِي تَرَاهَا فَتَسُوءُكَ، وَتَحْمِلُ لِسَانَهَا عَلَيْكَ، وَإِنْ غِبْتَ عَنْهَا لَمْ تَأْمَن’هَا عَلَى نَفْسِهَا وَمَالِكَ
پس خوش بختی میں سے یہ ہے کہ نیک عورت ہو، جب تم اسے دیکھو تو وہ تمہیں اچھی لگے (خوش کر دے) اور جب تم اس سے غائب ہو (کہیں جاؤ) تو تم اس کے معاملے میں اور اپنے مال کے معاملے میں بے فکر رہو۔ اور بدبختی (شقارت) میں سے یہ ہے کہ وہ عورت جسے تم دیکھو تو وہ تمہیں بری لگے (تمہیں دکھ پہنچائے)، اور وہ تم پر اپنی زبان درازی کرے، اور اگر تم اس سے غائب ہو جاؤ تو تمہیں اس کی ذات اور اپنے مال کا کوئی بھروسہ نہ ہو۔

​ (مستدرک لِلحاکم: 2684، سلسلہ احادیثِ صحیحہ: 282)

جاننا چاہیے یہ بات صرف عورت پر لاگو نہیں ہے بلکہ یہ مرد پر بھی ویسے ہی لاگو ہے جیسے عورت پر، بعض اوقات بدخصلت مرد کسی نیک خصلت عورت کی زندگی کا حصہ بن سکتا ہے، تو اس آزمائش سے نکلنے کا بھی اللہ تعالیٰ نے خلع کی شکل میں ایک طریقہ رکھا ہے۔ قرآن کریم میں بھی اس بات کی طرف اشارہ ملتا ہے کہ اگر میاں بیوی کے مزاج نہیں مل رہے اور اللہ کی حدود قائم نہیں رہ پا رہیں (یعنی سکون برباد ہے اور حقوق ادا نہیں ہو رہے اور ایک دوسرے کو اپنی زبان اور ہاتھ سے اذیت بھی دے رہے ہیں اور اس کا برا اثر بچوں پر پڑ رہا ہے۔) تو علیحدگی میں کوئی حرج نہیں، بلکہ اللہ نے اس میں بھی غنی (بے پروا) کر دینے کا وعدہ کیا ہے:

وَإِن يَتَفَرَّقَا يُغْنِ اللَّهُ كُلًّا مِّن سَعَتِهِ ۚ وَكَانَ اللَّهُ وَاسِعًا حَكِيمًا
اور اگر وہ دونوں (میاں بیوی طلاق لے کر) جدا ہو جائیں تو اللہ اپنی وسعت سے ہر ایک کو (دوسرے سے) بے نیاز کر دے گا، اور اللہ بڑی وسعت والا، حکمت والا ہے۔

(سورۃ النساء، آیت: 130)

اسی ضمن میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بڑی اہم دعا ہے:

​اَللّٰهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنْ جَارِ السُّوءِ، وَمِنْ زَوْجٍ تُشِيبُنِي قَبْلَ الْمَشِيبِ، وَمِنْ وَلَدٍ يَكُونُ عَلَيَّ رَبًّا، وَمِنْ مَالٍ يَكُونُ عَلَيَّ عَذَابًا، وَمِنْ خَلِيلٍ مَاكِرٍ عَيْنُهُ تَرَانِي، وَقَلْبُهُ يَرْعَانِي؛ إِنْ رَأَى حَسَنَةً دَفَنَهَا، وَإِنْ رَأَى سَيِّئَةً أَذَاعَهَا
​اے اللہ! میں تیری پناہ مانگتا ہوں برے پڑوسی سے، اور ایسی بیوی یا شوہر سے جو مجھے بڑھاپے کے آنے سے پہلے ہی بوڑھا کر دے، اور ایسی اولاد سے جو مجھ پر حکمران (آقا) بن بیٹھے، اور ایسے مال سے جو میرے لیے عذاب بن جائے، اور ایسے مکار دوست سے جس کی آنکھیں مجھے دیکھ رہی ہوں اور اس کا دل میری تاک میں ہو، (اس طرح کہ) اگر وہ مجھ میں کوئی اچھائی دیکھے تو اسے دفن کر دے (چھپا لے) اور اگر کوئی برائی دیکھے تو اسے پھیلا دے۔

​تخریج و حوالہ:
​(المعجم الکبیر للطبرانی: 13399، الدعاء للطبرانی: 1339، سلسلہ احادیثِ صحیحہ از البانی: 3137، صحیح الجامع: 12829)

والسلام